Al-Risala · June 2018 · page 22

اللہ پر اعتماد

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۲۲

طرف دوڑایا، تا کہ وہ آپ کو مدینہ پہنچنے سے پہلے پکڑ لیں اور نعوذ باللہ آپ کو قتل کر ڈالیں۔ آپ ابھی غار ثور میں چھپے ہوئے تھے کہ مکہ کے کئی لوگ آپ کی تلاش میں وہاں پہنچ گئے۔ اس وقت وہ اتنے قریب تھے کہ غار کے اندر سے وہ صاف نظر آرہے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے جب یہ دیکھا کہ تلوار لیے ہوئے یہ لوگ غار کے منہ تک پہنچ گئے ہیں تو انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کی طرف نظر ڈالے تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ یہ سن کر پیغمبر اسلام نے کامل اعتماد کے ساتھ کہا: یَا أَبَا بَكْرِ مَا ظُنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا (سيرة ابن کثیر 43- 2/242)۔ یعنی اے ابوبکر، ان دو کے بارے میں تمھارا کیا گمان ہے، جن کا تیسرا اللہ ہو۔

پیغمبر اسلام کی زبان سے نکلا ہوا یہ کلمہ اتنا عظیم ہے کہ شاید پوری انسانی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری نظیر موجود نہیں۔ اس وقت آپ بلاشبہ انتہائی پر خطر حالات میں تھے، لیکن اللہ پر اعتماد اتنا زیادہ بڑھا ہوا تھا کہ کوئی بھی طوفان اس کو متزلزل نہیں کر سکتا تھا۔ یہی بے پناہ اعتماد تھا جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ ایسے پر خوف حالات میں اتنا زیادہ بے خوفی کا کلمہ آپ کی زبان سے نکلے۔ عبادت کی کیفیت پیغمبر اسلام روزانہ خدا کی عبادت کرتے تھے، دن کو بھی اور رات کو بھی۔ عبادت کے وقت آپ کے دل کی جو کیفیت ہوتی تھی اس کا اندازہ ایک روایت سے ہوتا ہے۔ حضرت علی بتاتے ہیں کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس میں ذکر ودعا کے کون سے الفاظ آپ کی زبان پر جاری ہوتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ بتاتے ہیں کہ جب آپ نماز کے وقت رکوع میں جھکتے تھے تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ ہوتے تھے: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 771)۔ یعنی اے اللہ میں تیرے آگے جھک گیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کیا، تیرے آگے جھک گئے میرے کان، اور میری آنکھ، اور میرا دماغ اور میری ہڈیاں اور میرے اعصاب۔ اسی طرح حضرت علی بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام جب سجدے کے وقت زمین پر اپنا سر رکھتے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page