Al-Risala · June 2018 · page 24

انسان کا احترام

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۲۴

پیغمبر اسلام نے اسی کامل خیر خواہی کے تحت اپنی قوم کو حق کی دعوت پہنچائی۔ اور آپ نے اپنی تمام کوششیں اس کی راہ میں صرف کردیں ۔ اس کے باوجود ان کی اکثریت آپ کے پیغام کو ماننے پر راضی نہ ہوئی۔ اس کے بعد آپ کا حال یہ ہوا کہ آپ ان کی ہدایت کے غم میں ہلکان ہونے لگے۔ آپ کے دن کا چین رخصت ہو گیا اور آپ کی رات کی نیند غائب ہو گئی۔

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ (شاید تم اپنے آپ کو ہلاک کر لو گے) کا مطلب آپ کو اس سے روکنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ آپ نے اپنی پیغمبرانہ ذمے داری کو اس کی آخری اور انتہائی حد تک ادا کر دیا۔ دوسرے کی ہدایت کے لیے اپنے آپ کو ہلکان کرنا، پیغمبر کی شخصیت کا اہم ترین وصف ہے۔ اس وصف میں آپ بلاشبہ کمال کے درجے کو پہنچے ہوئے تھے۔

انسان کا احترام

قدیم مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ کچھ یہودی قبیلے بھی آباد تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام مدینہ کے ایک مقام پر تھے۔ اس وقت وہاں سے ایک جنازہ گزرا۔ آپ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازے کو دیکھ کر آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ اس وقت آپ کے کچھ صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ دیکھ کر کسی نے کہا کہ اے خدا کے رسول یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا : أَلَيْسَتْ نَفْسًا (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 1312)۔ یعنی کیا وہ انسان نہ تھا۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے دل میں دوسرے انسانوں کے بارے میں کس قسم کے جذبات ہوتے تھے۔ آپ ہر انسان کو انسان سمجھتے تھے۔ ہر انسان آپ کو قابل احترام نظر آتا تھا، خواہ وہ کسی بھی قوم یا ملت سے تعلق رکھتا ہو۔ ہر انسان کو آپ خدا کی ایک مخلوق سمجھتے تھے۔ ہر انسان کے اندر آپ کو وہی کاریگری دکھائی دیتی تھی جو آپ کو خود اپنے وجود میں دکھائی دیتی تھی۔ انسان کو دیکھ کر آپ انسان کے خالق کو یاد کرنے لگتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے دل میں ہر انسان کے لیے محبت اور احترام کا جذبہ تھا۔ انسان سے نفرت کرنا آپ کے مزاج کے بالکل خلاف تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page