ہدایت کے لئے تڑپنا
الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۲۳
تھے تو اس وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو جاتے تھے: اَللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 771)۔ یعنی اے اللہ میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کیا، میرا چہرہ اس کے آگے جھک گیا جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کی صورت گری کی اور اس کے کان اور آنکھ کو بنایا۔ پس بابرکت ہے اللہ، سب سے بہتر تخلیق کرنے والا۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام جب عبادت میں مشغول ہوتے تھے تو اس وقت ان کے جذبات کیا ہوتے تھے۔ اس وقت وہ خدا کی عظمت و ہیبت کے احساس میں ڈوبے ہوئے ہوتے تھے۔ خدا کی برتری اور اس کے مقابلے میں اپنے عجز کا تصور ان کے سینے میں ایک طوفان کی حیثیت اختیار کرلیتا تھا۔ آپ کی عبادت آپ کے لیے خدائے عظیم و کبیر کے سامنے حاضری کے ہم معنی بن جاتی تھی۔ آپ کی عبادت آپ کے لیے انتہائی حد تک ایک زندہ عمل تھا، نہ کہ محض کچھ رسمی اعمال کی ادائیگی۔
ہدایت کے لئے تڑپنا
قرآن کی سورۃ الشعراء میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ - لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ - إِنْ نَّشَأْنُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ (26: 4-2)۔ یعنی یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ شاید تم اپنے کو ہلاک کر ڈالو گے اس پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے ۔ اگر ہم چاہیں تو تم پر آسمان سے نشانی اتار دیں، پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔
یہ اور اس طرح کی دوسری شہادتیں بتاتی ہیں کہ پیغمبرِ اسلام اپنے مخاطبین کی ہدایت کے لیے کتنا زیادہ حریص تھے۔ ”شاید تم اپنے آپ کو ہلاک کر لو گے“ کا جملہ اس کا مل خیر خواہی کو بتا رہا ہے جو پیغمبر اسلام کو اپنے مخاطبین کے حق میں تھی۔ دعوتی عمل خالص خیر خواہی کے جذبے سے ابلتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues