قرآن کا مطالعہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۲۶
قرآن کا مطالعہ
کئی بار ایسے لوگوں سے میری ملاقات ہوئی جو درسِ قرآن کے کسی حلقے میں برابر شرکت کرتے ہیں۔ میں نے ان سے ایک سوال کیا۔ وہ یہ کہ آپ جو درسِ قرآن سنتے ہیں، اس سے آپ کو ٹیک اوے (takeaway) کیا ملا۔ میرے تجربے کے مطابق، یہ لوگ متعین انداز میں بتا نہ سکے کہ ان حلقوں میں شرکت سے ان کو ٹیک اوے کیا ملا یا کیا ملتا ہے۔ ٹیک اوے کا مطلب ہے کسی کلام سے اخذ کردہ بات :
A conclusion to be made based on presented facts or information آپ کوئی کتاب پڑھیں یا کوئی تقریر سنیں، اور اس سے آپ کو کوئی متعین بات نہ ملے تو آپ کا ذہن ایڈریس نہ ہوگا۔ آپ پڑھ کر یا سن کر بھی اس سے کوئی کار آمد بات اخذ نہ کر سکیں گے۔ جب ایسا ہوگا تو پڑھی ہوئی بات یاسنی ہوئی بات آپ کی شخصیت کا جزء نہیں بنے گی۔ پڑھ کر یا سن کر بھی آپ ویسے ہی رہیں گے، جیسا کہ سننے یا پڑھنے سے پہلے تھے۔ مفید کلام وہ ہے، جس سے قاری یا سامع کو کوئی متعین پیغام ملے۔ جو اس کے ذہن کو متعین انداز میں ایڈریس کرے، جس کے بعد آدمی اس قابل ہو جائے کہ وہ تقابلی انداز میں بات کو سمجھے۔ وہ اپنی شخصیت یا اپنے موقف کا تقابلی انداز میں مطالعہ کرے ۔ جو کلام آپ کے اندر یہ صفت پیدا کرے، وہی کلام مفید کلام ہے، اور جو کلام آپ کے اندر یہ صفت پیدا نہ کرے، وہ بظاہر الفاظ کا ایک مجموعہ ہو سکتا ہے، لیکن وہ معانی کا خزانہ نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر آپ نے یہ آیت پڑھی یا سنی: اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (2:255)۔ یہ آیت پڑھ کر آپ نے الحی القیوم پر غور کیا، اور یہ سوچا کہ جس طرح میں ایک زندہ ہستی ہوں، اس سے بڑھ کر اللہ رب العالمین الحی القیوم ہے، وہ ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ آپ کے اندر اگر یہ شعور پیدا ہوا اور آپ نے اللہ رب العالمین کو ایک زندہ وجود کے طور پر دریافت کیا تو آپ کو ٹیک اوے ملا، اور اگر ایسا نہیں ہوا تو آپ کو ٹیک اوے نہیں ملا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues