قرآن کا مطالعہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۲۷
اسی طرح اسلام کی ایک تعلیم قرآن میں آئی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے : اے ایمان والو، اللہ کے لیے قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو۔ یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو (المائدۃ : 8، 5)۔
آپ نے اس آیت کو پڑھا۔ پھر آپ نے اس آیت کو اپنے آپ پر منطبق کیا۔ تطبیقی مطالعہ (applied study) کر کے آپ نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا میں اپنے معاملے میں اس آیت پر عمل کر رہا ہوں۔ پھر آپ نے دریافت کیا کہ اس طرح کے معاملے میں میرا رویہ اس آیت کے مطابق نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ نے فوراً اپنا بے لاگ محاسبہ کیا۔ آپ نے اپنی سوچ کو بدل کر اپنے آپ کو عادلانہ روش پر قائم کیا تو قرآن کا یہی مطالعہ صحیح قرآنی مطالعہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ ایسا کریں کہ قرآن کا مطالعہ فنی انداز میں کریں۔ قرآن کے لغوی اور نحوی مسائل کو حل کریں تو آپ کو قرآن سے حل الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔
قرآن کی تحریک پچھلے تقریباً سوسال سے بڑے پیمانے پر چل رہی ہے۔ لوگ قرآن کے نام پر کتابیں چھاپ رہے ہیں، اور تقریریں کر رہے ہیں۔ لیکن اگر نتیجے کے اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو ایسے افراد کو پانا مشکل ہوگا جن کا ذہن مطلوب انداز میں بنا ہو۔ مثلاً قومی مسائل میں جو متعصبانہ رائے عام مسلمانوں کی ہے، وہی قرآن کے ان قاریوں کی بھی ہے۔ قرآن کا نام لینے والے تو بہت سے لوگ ملیں گے لیکن ایسا کوئی شخص مشکل سے ملے گا، جس کے اندر صحیح معنوں میں قرآن کا ذہن بنا ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن کے نام پر ہونے والی یہ تمام کوششیں غیر تطبیقی انداز (unapplied way) میں کی جارہی ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہو رہا ہے کہ سننے یا پڑھنے والوں کا ذہن ایڈریس نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کے لیے قرآن کا سننا یا پڑھنا، بس قرآن کا قصیدہ بن کر رہ جانا ہے۔ ایسے لوگ تو ملتے ہیں، جو قرآن پر فخر کریں، لیکن ایسے لوگ نہیں ملتے، جن کے اندر قرآن کو سن کر محاسبہ (introspection) کی سوچ جاگے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues