Al-Risala · June 2018 · page 29

درس قرآن

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۲۹

درس قرآن

مولا نامحمود حسن دیو بندی کا واقعہ ہے۔ وہ 1920ء میں مالٹا کی جلاوطنی سے واپس آئے۔ اس کے بعد دیو بند میں ان کی ایک مجلس ہوئی۔ اس مجلس میں انھوں نے درس قرآن کی بات کہی۔ ان کے شاگرد رشید مفتی محمد شفیع صاحب اُس مجلس کی روداد ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعد ایک رات بعد عشاء (حضرت) دارالعلوم (دیو بند) میں تشریف فرماتھے۔ علما کا بڑا مجمع سامنے تھا، اس وقت فرمایا کہ ”ہم نے مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں... میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ ایک، ان کا قرآن کو چھوڑ دینا، اور دوسرا، آپس کے اختلاف اور خانہ جنگی۔ اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کولفظاً اور معناً عام کیا جائے، بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی بستی میں قائم کیے جائیں، بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معنی سے روشناس کرایا جائے، اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے۔ “ یہ بات علماء کے پورے حلقے میں تیزی سے پھیل گئی۔ غیر منقسم ہندوستان کے تقریباً تمام مدارس اور مساجد میں درس قرآن کے حلقے قائم ہو گئے۔ یہ حلقہ ابھی تک کسی نہ کسی صورت میں جاری ہیں۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو ان دروس قرآن کا مطلوب نتیجہ ابھی تک برآمد نہ ہوسکا۔ جب کہ اس عمل پر اب تقریباً ایک صدی پوری ہورہی ہے۔

اس ناکامی کا سبب کیا تھا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہ تھا کہ بیسویں صدی میں مسلمانانِ ہند کے اوپر مسلم فخر (Muslim Supremacism) کا ذہن چھایا ہوا تھا۔ اس لیے علماء کا یہ درس قرآن عملاً قصیدہ قرآن بن کر رہ گیا، وہ نصیحت قرآن نہ بن سکا۔ قرآن کا درس دینے والے، اور قرآن کے درس کو سننے والے دونوں فخر کی نفسیات میں جی رہے تھے۔ اس لیے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page