Al-Risala · June 2018 · page 30

درس قرآن

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۳۰

قرآن کا تذکرہ ان کے لیے قومی فخر کو تسکین دینے والا بن کر رہ گیا، وہ ان کے لیے ذہنی اصلاح کا ذریعہ نہ بن سکا۔

قرآن کی بنیاد پر اصلاح امت کی تحریک صرف اس وقت کامیاب ہو سکتی ہے، جب کہ اس کو تطبیقی انداز (applied way) میں چلایا جائے۔ یعنی قرآن کی آیتوں کو مسلمانوں کی حالت پر منطبق کرتے ہوئے اس کی وضاحت کی جائے۔ تطبیقی انداز میں قرآن کا جو تذکرہ کیا جائے گا، وہ سامعین کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا بنے گا، اور جو درس قرآن سامعین کے ذہن کو ایڈریس کرے، وہی اصلاح یا انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس کے بغیر ہرگز نہیں۔

مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ﴿وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ ﴾ (6:108)۔ یعنی اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، ان کو گالی نہ دو ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالی دینے لگیں گے۔

اس آیت میں لا تسبوا کا خطاب اصحاب رسول سے ہے۔ ظاہر ہے کہ اصحاب رسول مشرکین کے بتوں کے خلاف سب وشتم کی زبان استعمال نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود اصحاب رسول جب ان کے خلاف کوئی بات بولیں گے تو وہ مشرکین کو سب وشتم نظر آئے گا، اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ جواب میں ری ایکشن کا طریقہ اختیار کریں۔ پھر یہ ری ایکشن بڑھے گا، اور چین ری ایکشن کی صورت اختیار کرلے گا، اور اس طرح لوگوں کی اصلاح کا کام مزید مشکل بن جائے گا۔ اس حقیقت کو جب تطبیقی انداز میں بیان کیا جائے تو آج کے مسلمانوں کو اس میں نصیحت کا پہلو ملے گا۔ وہ سوچیں گے کہ کچھ لوگوں کو جب ہم شاتم قرار دے کر پر شور تحریک چلانا چاہتے ہیں تو اس کا نتیجہ الٹا ہو رہا ہے۔ لوگ اس کو اپنے خلاف سمجھ کر اور زیادہ شدید ہو جائیں گے، اور اصلاح کا کام مشکل سے مشکل تر ہو جائے گا۔ سب وشتم کے خلاف قتل کا فتویٰ اس معاملے میں صرف کاؤنٹر پروڈکٹیو ثابت ہوگا، وہ اصلاح کا ذریعہ نہیں بنے گا، بلکہ اصلاح کو مزید مشکل بنانے کا سبب بن جائے گا ــــ درس قرآن وہی مفید ہے، جو تطبیقی انداز میں کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page