تطبیقی تفسیر
الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۳۸
یہاں ایک فطری تمثیل کے ذریعے ملت کے احیاء نو کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق زمین پر دو موسم آتے ہیں، سوکھے کا موسم اور بارش کا موسم۔ سوکھے کے موسم میں کھیت سوکھ جاتے ہیں، کھیت کی ہریالی باقی نہیں رہتی۔ لیکن بارش کا موسم آتے ہی کسان دوبارہ پانی اور کھاد کو استعمال کر کے اپنے کھیت کو تیار کرتا ہے۔ یہاں تک کہ دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ سوکھی زمین دوبارہ ہری بھری زمین بن جاتی ہے۔
فطرت کی یہ مثال بتاتی ہے کہ ملت کے رہنماؤں کو ملت کے احیائے نو کے لیے کیا کرنا چاہیے ۔ وہ ایسا نہ کریں کہ سوکھی زمین کو کسی دشمن کی سازش کا نتیجہ بتا کر احتجاج کی تحریک شروع کر دیں۔ بلکہ وہ کسان کی طرح یہ کریں کہ ملت کی زمین کو دوبارہ ہموار کریں، اور پانی کو استعمال کرتے ہوئے دوبارہ زمین میں بیج بودیں، اور پودے، یعنی ملت کے افراد کو پانی پہنچا کر زراعت کے اصول کو ملت کے معاملے میں اپلائی (apply) کرتے ہوئے ملت کو دوبارہ شاداب بنائیں۔ جس طرح کسان کی محنت مبنی بر پودا ہوتی ہے، اسی طرح ملت کے رہنماؤں کی ساری محنت مبنی بر افراد ہونی چاہیے۔ ملت کا زوال دراصل افراد کے زوال کا نام ہے۔ ایسا وقت آنے پر ملت کے رہنماؤں کو یہ کرنا ہے کہ وہ تعمیر افراد کا کام کر کے ملت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کریں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ملت کے احیاء کا کام افراد کے احیاء سے شروع ہوتا ہے۔ افراد کے اندر اسپرٹ کو زندہ کرنے کے بعد ملت اپنے آپ زندہ ہو جاتی ہے۔
قرآن کی تفسیر میں مختلف زبانوں میں بڑی تعداد میں لکھی اور چھاپی گئی ہیں۔ مگر راقم الحروف کے علم کے مطابق یہ تفسیریں غیر تطبیقی انداز میں لکھی گئی ہیں۔ قرآن کی تفسیر کے بارے میں مسلم اہل علم کا غالباً یہی وہ انداز ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں آیا ہے۔ مختلف زمانوں میں لکھی جانے والی یہ تفسیریں عملاً اسی قسم سے تعلق رکھتی ہیں، جس کو یہاں غیر تطبیقی انداز کہا گیا ہے۔ اس معاملے میں کوئی قابل ذکر استثنا راقم الحروف کے علم میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے دروس اور تفاسیر کی کثرت کے باوجود اس کا مطلوب نتیجہ حاصل نہ ہو سکا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues