Al-Risala · June 2018 · page 39

قول بلیغ

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۳۹

قول بلیغ

قرآن میں دعوت کے ایک اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَقُلْ لَّهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا (4:63)۔ یعنی اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔ اس آیت میں قول بلیغ کا مطلب ہے، ایسا قول جو سننے والے کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ جس کو سن کر وہ سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ ایسا قول جو آدمی کے ذہن کو ٹرگر (trigger) کر دے، یہاں تک کہ وہ تخلیقی (creative) انداز میں سوچنے لگے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے مسلمانوں کو لیجیے۔ اگر آپ ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ خبر دیں کہ یہ ملک ان کے لیے مسائل سے بھرا ہوا ہے۔ اس ملک میں ان کے لیے نفرت اور نارواداری کا ماحول ہے۔ یہاں ان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ ان کے تہذیب و کلچر کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وغیرہ۔ تو اس طرح کی باتوں سے مسلمانوں کو صرف مایوسی ہوگی۔ ان کو کوئی رہنمائی نہیں ملے گی۔

اس کے برعکس، اگر آپ مسلمانوں سے یہ کہیں کہ تم قرآن کی ایک آیت کو دوبارہ پڑھو، اور اس میں جوفطرت کا قانون بتایا گیا ہے، اس کو سمجھو۔ وہ آیت یہ ہے: أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَابِيًّا وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْه فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُهُ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ (13:17)۔ یعنی اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے لئے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔ قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جو گروہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page