Al-Risala · June 2018 · page 41

فہم دین

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۴۱

فہم دین

قرآن دینِ خداوندی کو سمجھنے کا واحد مستند ماخذ ہے۔ قرآن اللہ رب العالمین کی آخری کتاب ہے۔ وہ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں عرب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا۔ یہ قبل از سائنس دور (pre-scientific age) کا زمانہ تھا۔ اس وقت اگر قرآن میں وہ اسلوب اختیار کیا جاتا جو سائنس کے ظہور کے بعد بیسویں صدی میں رائج ہوا ہے۔ تو یہ اس مشہور مثل کا مصداق بن جاتا: Putting the cart before the horse یعنی سائنٹفک اسلوب کے ظہور سے پہلے سائنٹفک اسلوب میں بات کرنا۔ قرآن و حدیث میں اعلیٰ معرفت کی باتیں ہیں، لیکن اس کا اسلوب قدیم ہے۔ اگر یہ باتیں جدید اسلوب کلام میں ہوتیں تو اس قسم کی باتیں معاصر مخاطبین کے لیے معمہ بن جاتیں۔ سننے والوں کا ذہن ایڈریس نہ ہوتا، اور کلام میں وہ تاثیر پیدا نہ ہوتی جو مطلوب تھی۔

مثال کے طور پر حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے۔ قدیم عراق کے بادشاہ سے ان کا ایک دعوتی مکالمہ ہوا۔ اس میں انھوں نے بادشاہ سے ایک بات یہ کہی: فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمُشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمُغْرِبِ (2:258)۔ یعنی اللہ سورج کو پورب سے نکالتا ہے تم اس کو پچھم سے نکال دو۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم اگر یہ کہتے کہ خدا کے قائم کردہ قانون کے مطابق صبح و شام کا نظام ہیلیو سینٹرک سسٹم (heliocentric system) کے اصول پر قائم ہے، تم اس کو جیو سینٹرک سسٹم (geocentric system) پر قائم کر دو۔ تو مخاطب اس جملے کا کوئی مطلب نہ سمجھتا، اور بات بے اثر ہو کر رہ جاتی۔

اسی طرح کی ایک اور مثال یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مدینے میں سورج گرہن (solar eclipse) پڑا، اتفاق سے اس دن پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہو گیا تھا۔ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ آج پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہوا ہے، اس لیے سورج گرہن لگا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ پیغمبر

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page