فہم دین
الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۴۲
اسلام نے اس موقع پر لوگوں کو مدینہ کی مسجد میں اکٹھا کر کے ان کو خطاب کیا۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں پر گرہن نہ کسی کی موت سے لگتا ہے، اور نہ کسی کی زندگی سے۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (1052)۔ اس کے برعکس، پیغمبر اسلام اس وقت اگر ایسا کرتے کہ آپ بعد کو ہونے والی دریافت کی زبان بولتے، اور یہ کہتے :
Eclipse is an astronomical phenomenon. It occurs due to the well-calculated alignment of three moving bodies of different sizes at a particular point in time in the vast space. پیغمبر اسلام اگر ایسی زبان بولتے تو وہ لوگوں کے لیے معمہ بن جاتا۔ آپ لوگوں کے اندر جو مبنی بر ذکر اللہ سوچ پیدا کرنا چاہتے تھے، وہ پیدا نہ ہوتی۔ قرآن فہمی کے سلسلے میں اس اسلوب کو جاننا بے حد ضروری ہے۔ جو لوگ اس اصول کو نہ جانیں، وہ موجودہ زمانے میں قرآن کے اعلیٰ معانی کو سمجھ نہیں سکتے، خواہ وہ روایتی قسم کے فنون میں کتنے ہی زیادہ مہارت رکھتے ہوں۔
چند مثالیں
دورِ نبوت کے اسلام میں کئی چیزیں عصری حالات (age factor) کی بنا پر ظہور میں آئیں ۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے ایک متلاشی (seeker) انسان تھے۔ آپ اکثر خاموش رہتے، اور سوچتے رہتے تھے۔ اس زمانے میں آپ اکثر تنہا غارِ حرا (cave of Hira) میں چلے جاتے، اور وہاں کئی دن تک قیام کرتے ۔ یہ غار جبل حرا کے اوپر واقع تھا، وہ مسجد حرام سے تقریباً چار کلومیٹر کی دوری پر تھا۔ وہاں آپ کھانے پینے کا کچھ معمولی سامان لے کر جاتے اور کئی روز قیام کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول عصری کلچر کی بنا پر تھا۔ اس زمانے کے حنفاء پہلے سے ایسا ہی کر رہے تھے۔ حنفاء کا لفظ قدیم زمانے میں متلاشیانِ حق (truth seekers) کے لیے بولا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غار حرا نبوت کا کوئی مقدس حصہ نہیں۔ کسی نبی کا ظہور اگر موجودہ زمانے میں ہوتا تو عین ممکن تھا کہ وہ موجودہ زمانے کی انٹرنیشنل لائبریری میں کتابوں کا مطالعہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues