Al-Risala · June 2018 · page 43

قتل و قتال کا معاملہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۸، صفحہ ۴۳

کرتا، اورانٹرنیشنل سیمینار میں شرکت کرتا۔

قتل و قتال کا معاملہ

قرآن وحدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں قتل و قتال کے معاملے کو اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا۔ مثلاً اس سلسلے میں قرآن کی آیت یہ ہے : اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِي سَبِيْلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانُ مَرْصُوْصٌ (61:4)۔ یعنی اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح متحد ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کو دیکھیے تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاد بالسيف مطلق معنوں میں کوئی بہت بڑی بات ہے۔ یعنی جس طرح تم نماز پڑھتے ہو، اسی طرح مفروضہ طور پر کچھ لوگوں کو دشمن قرار دے کر ان سے ہمیشہ لڑتے رہو۔ مگر باعتبار حقیقت ایسا نہیں ہے۔ جہاد بالسيف ایک موقت (وقتی) حکم ہے، وہ ایمان اور نماز، وغیرہ کی طرح ہر دن اور ہر زمانے میں جاری رہنے والا مطلق اور ابدی حکم نہیں ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو ایک نصیحت کی۔ اس کا ترجمہ یہ ہے : اے لوگو، دشمن سے مقابلہ کی تمنا مت کرو، اور اللہ سے عافیت مانگو (لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ العَدُوّ، وَسَلُوا اللهَ العَافِيَةَ) لیکن جب مقابلہ ہو تو جم کر مقابلہ کرو، اور یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2966)۔

اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جہاد بالسيف کوئی مطلق حکم کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ اس وقت کا معاملہ ہے جب کہ فریق ثانی کے اقدام کی بنا پر اس کی صورت پیش آجائے۔ ۔ چناں چہ فقہاء نے بتایا ہے کہ جہاد بالسيف حسن لذاتہ نہیں ہے، بلکہ وہ حسن لغيره ہے (موسوعة الفقه الاسلامی، محمد بن ابراہیم التویجری، بیت الأفکار الدولیة، 2009، 50-5/449)۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کا مشن اصلاً تو حید کا مشن تھا۔ یعنی وہی مشن جو تمام انبیاء کا ہمیشہ سے مشن رہا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ آپ کی ایک مزید ذمے داری (additional duty) یہ تھی کہ آپ دنیا سے دور جبر (age of despotism) کا خاتمہ کردیں ۔ دور جبر اللہ کے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2018 All issues

Printed page