Al-Risala · July 2018 · page 6

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۶

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۶

اختلاف کے باوجود متحد ہو کر اللہ کے مشن کے لیے کام کرنا ایک ایسا عمل ہے، جو انسان کو معمولی انسان سے بڑھا کر غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے۔ ایسا انسان رب العالمين کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ یہ حقیقت قرآن کی ایک آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيْلِهِ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ (4: 61)۔ یعنی اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح مل کر قتال کرتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

قرآن کی اس آیت میں یقاتلون سے مراد مجاہدون ہے۔ یعنی اللہ کے مشن میں بھر پور طاقت کے ساتھ اپنی کوشش جاری رکھنا۔ اللہ کا مشن کیا ہے، اللہ کی مرضی کو اللہ کے بندوں تک پرامن طریقے سے پہنچانا۔ ایسا انسان اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ ایسے انسان کو اللہ خصوصی نعمتوں سے سرفراز کرتا ہے۔ ایسے انسان کے لیے فرشتے بہترین دعائیں کرتے ہیں، ایسے انسان کو آخرت میں وہ درجہ ملتا ہے، جو دوسرے انسانوں کو نہیں ملتا۔

دنیا کی زندگی میں جب بھی مل جل کر کوئی کام کیا جائے تو ضرور ایسا ہوتا ہے کہ آپس میں اختلافات (differences) پیدا ہوں۔ ایک کو دوسرے سے شکایت کا تجربہ پیش آئے۔ اجتماعی جدوجہد میں اس قسم کا تجربہ پیش آنا بالکل فطری ہے، جو انسان ایسا تجربہ پیش آنے کے بعد اس کو عذر (excuse) بنالے، اور شکایت کو عذر بنا کر اجتماعیت سے الگ ہو جائے، وہ اللہ کا غیر محبوب بندہ ۔۔۔ (قسط آخر) بایگانیٔ اردوپوائنٹ (چوائس)

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page