Al-Risala · July 2018 · page 7

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۷

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۷

بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو انسان شکایت کو نظر انداز کرے، اور اختلاف کے باوجود متحد ہو کر اپنا کام جاری رکھے، وہ اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔

اجتماعی جد و جہد میں اختلاف کا پیش آنا، کوئی برائی نہیں، بلکہ وہ ایک موقع (chance) ہے۔ جب کوئی انسان اختلاف کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرے، اور بڑھے ہوئے جذبے کے ساتھ خدا کے مشن کو بدستور جاری رکھے۔ ایسا انسان اپنے آپ کو اس بات کا مستحق بنا دیتا ہے کہ اللہ کے یہاں اس کا درجہ بہت بڑھ جائے۔

اس دنیا میں کوئی بڑا کام اجتماعی جد و جہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اور اجتماعی جد و جہد میں اختلافات کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ ایسی حالت میں کوئی بڑا کام کس طرح کیا جائے۔ اس کی صورت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ اختلاف کو انا (ego) کا مسئلہ نہ بنایا جائے، بلکہ اس کو اللہ رب العالمین کے خانے میں ڈال دیا جائے۔

حدیث کی کتابوں میں عبادہ بن الصامت سے ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے:

بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1709)۔ یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی، مشکل اور آسانی، خوشی اور ناخوشی ہر حالتوں میں، اور یہ کہ ہمارے اوپر ترجیح دی جائے، اور یہ کہ ہم اولو الامر کے ساتھ اختلاف نہیں کریں گے، اور ہم جہاں بھی ہوں حق بات کہیں گے، اللہ کے بارے میں ملامت کرنے والے سے خوف نہیں کریں گے۔

یہ اجتماعی جد و جہد کا کلچر ہے۔ اس کلچر کا تعلق جنگ سے نہیں ہے، بلکہ پر امن جد و جہد سے ہے۔ کسی مشن کے لیے پر امن جد و جہد کرنے میں یہ تمام امتحانات لازماً پیش آتے ہیں۔ ان امتحانات میں پورا اترنا، وہ عمل ہے، جو انسان کو اللہ کا محبوب بندہ بنا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page