عالمی تائیدِ اسلام
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۰
حکمت (wisdom) کو جاننا ہے۔ وہ یہ کہ وہ جو کچھ کریں، پوری طرح پرامن (peaceful) انداز میں کریں۔ وہ کسی حال میں تشدد (violence) کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ جب تک وہ پرامن رہیں، سارے مواقع ان کے لیے کھلے رہیں گے۔ وہ صرف اس وقت ان سے چھن سکتے ہیں، جب کہ وہ اس راز کو نہ سمجھیں، اور تشدد کا طریقہ اختیار کر لیں۔
حدیث میں تائیدِ دین کی بات کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ نہایت وسیع معنی میں ہے۔ مثال کے طور پر رسول اللہ کے زمانے میں کعبہ میں تمام قبائل کے بت رکھے ہوئے تھے۔ اس بنا پر روزانہ وہاں لوگوں کا ایک بڑا مجمع اکٹھا ہوتا تھا۔ پیغمبرِ اسلام نے اس اجتماع کو آڈینْس (audience) کے روپ میں دیکھا، اور مکہ میں تیرہ سال تک ان مواقع (opportunities) کو دعوتی مقصد کے لیے اویل کرتے رہے۔ جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانے میں رسول اللہ کو وہ تمام افراد ملے، جن کو اجلہ صحابہ کہا جاتا ہے۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ وہ ابدی معنوں میں ایک سنتِ رسول ہے۔ ہر زمانے میں اس کو اپلائی (apply) کیا جا سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی پوری طرح مثبت سوچ والا ہو، اور کسی بھی قسم کی منفی سوچ کے بغیر حالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مثلاً موجودہ زمانے میں ایک کلچر رائج ہوا ہے، جس کو اجتماع کلچر (gathering culture) کہہ سکتے ہیں۔ کہیں کانفرنس کے نام پر، کہیں ٹورزم کے نام پر، کہیں میٹنگ کے نام پر، کہیں نمائش (exhibition) کے نام پر، کہیں جشن کے نام پر، کہیں فیسٹیول کے نام پر، کہیں بک فیر (book fair) کے نام پر، وغیرہ۔ یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ ہر جگہ اور دنیا کے ہر حصے میں تقریباً روزانہ وہ بڑے پیمانے پر ہوتے رہتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو مکہ میں پیغمبرِ اسلام کو زیارتِ اصنام" کے نام پر جو موقع ملا تھا، اب وہ ہزاروں گنا زیادہ بڑے پیمانے پر ہر جگہ موجود ہے۔ اس طرح گویا داعی اور مدعو کی دوری ختم ہو چکی ہے۔ ان اجتماعات کو دعوت کے لیے استعمال کرنے کے مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں، شرط صرف یہ ہے کہ لوگ تشدد سے دور رہیں، اور پرامن منصوبے کے ذریعے اس کو استعمال کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues