Al-Risala · July 2018 · page 11

ایج آف ریزن

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۱

ایج آف ریزن

حدیث رسول میں آیا ہے کہ ظہورِ دجال کے وقت ایک شخص دجال کے مقابلے میں حق کی گواہی دے گا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ یہ گواہی تاریخ کی ایک عظیم گواہی ہوگی۔ چنانچہ اس کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے۔ شہادتِ اعظم سے کیا مراد ہے اس کا ایک کُلُو (clue) دجال سے متعلق ایک اور روایت (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2937) میں ملتا ہے جس میں حج کا لفظ آیا ہے۔ یعنی دلیل وحجت کی سطح پر گواہی دینا۔ حدیث کے اس لفظ کو لے کر اس معاملے کی تشریح کی جائے تو بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جب دجال کا ظہور ہوگا تو تعقل کا دورِر (age of reason) آچکا ہوگا۔ دجال بظاہر عقلی اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے لوگوں کو فریب میں مبتلا کرے گا۔ اس کے بعد کوئی اللہ کا بندہ اعلیٰ عقلی استدلال کے ذریعے دجال کی پرفریب باتوں کو غلط ثابت کرے گا۔ وقت کے مطابق یہ کام حجت (reason) کی سطح پر ہوگا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دو سائنس میں پیش آئے گا۔ جب کہ مبنی بر تعقل دلائل کا دور آچکا ہوگا۔ سائنسی دور سے پہلے دین حق کی گواہی عقل عام (common sense) کی سطح پر دی جاتی رہی ہے۔ اس کے بعد دنیا میں سائنسی دور آیا۔ اس دور کو قرآن میں آفاق وانفس کے دلائل کے ظہور (فصلت، 41:53) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دجال اسی دور میں ظاہر ہوگا۔ وہ جس ہتھیار سے لوگوں کو فریب میں ڈالے گا، وہ عقلی ہتھیار ہوگا۔ اللہ کی توفیق سے اس زمانے میں ایک بندہ عقل کا زیادہ برتر استعمال کر کے دجال کے فریب کو ختم کر دے گا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم (great witness) کہا گیا ہے۔

سائنسی دور عقلیاتی دور کے دلائل کے ظہور کا زمانہ ہوگا۔ اس زمانے میں دجال عقلی دلائل کو غلط طور پر اپنے حق میں استعمال کرے گا۔ اس وقت اللہ کی توفیق سے اللہ کا ایک باخبر بندہ اٹھے گا، وہ اس دجال کی دجالیت کا پردہ پھاڑ کر حق کی کامل تبیین کرے گا (فصلت، 41:53)۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page