پیغمبروں والا کام
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۴
پیغمبروں والا کام
دعوت الی اللہ کا کام پیغمبر کی غیر موجودگی میں پیغمبر والا کام انجام دینا ہے۔ قدیم زمانے میں دعوت کا کام پیغمبر اور ان کے ساتھی انجام دیتے تھے۔ اب نبی کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس لیے اب نبی کی امت کو نبی کی نمائندگی میں یہ کام انجام دینا ہے۔ یہ کام اسی نہج (method) پر انجام دینا ہے، جس نہج پر پہلے پیغمبر انجام دیتے تھے۔ یہ اصول قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں پیغمبر کی زبان سے کہا گیا ہے : وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ (6:19)۔ یعنی اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تا کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو انذار کروں اور وہ بھی جن کو یہ پہنچے۔
اس آیت کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحی نے درست طور پر لکھا ہے ـــ عام طور پر مفسرین نے وَمَنْ بَلَغَ کو ضمیر منصوب پر معطوف مانا ہے یعنی یہ قرآن اس لیے مجھ پر وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور ان سب کو بیدار و ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے۔ یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ پہنچے وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر دوسروں کو اس کے ذریعے سے خبر دار کریں ۔ (تدبر قرآن ، سورہ الانعام، آیت 19)۔ یہ امت محمدی کی لازمی ذمے داری اور ختم نبوت کا لازمی تقاضا ہے۔ کیوں کہ ختم نبوت کے بعد نبی کی شخصیت کا دور ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن جہاں تک دعوت کا تعلق ہے، اس کو بدستور قیامت تک جاری رہنا ہے۔ یہ امت محمدی کی ایسی ذمے داری ہے، جو کسی حال میں موقوف نہیں ہوتی۔ اس ذمے داری کا ذکر قرآن میں مختلف الفاظ میں کیا گیا ہے۔ مثلاً امت وسط، شہادت علی الناس، انذار، ابلاغ، دعوت الی اللہ، تبلیغ ما انزل اللہ، وغیرہ۔ اس اصول کے مطابق، خاتم النبیین کی امت قیامت تک کے لیے داعی کی حیثیت رکھتی ہے، اور ختم نبوت کے بعد پیدا ہونے والے تمام انسان اس کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues