دورِ شخصیت ، دورِ استدلال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۳
اس کا سبب بعد کے زمانے میں ہونے والا ماس کنورژن (mass conversion) تھا۔ یعنی بعد کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔ اس طرح امتِ مسلمہ میں نومسلموں کی تعداد اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی۔ یہ لوگ اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کو لے کر اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ کثرتِ تعداد کی بنا پر ان کی فکری تربیت ممکن نہ ہوسکی۔ یہی نوواردین ہیں، جنھوں نے اپنے قدیم ذہن کی بنا پر عقلی غور و فکر کو اسلام کے خلاف قرار دیا۔ یہ ذہن اتنا زیادہ پختہ ہوگیا کہ وہ آج تک جاری ہے۔ اس سے کسی حد تک مستثنیٰ صرف وہ مسلمان ہیں، جنھوں نے موجودہ زمانے میں سیکولر اداروں میں تعلیم پائی۔
عباسی دور میں ایک طبقے کے اندر عقلی غور و فکر کا آغاز ہوا، لیکن وہ یونانی فلسفے کے زیرِ اثر ہوا تھا، اس لیے اسلام کے اصول کے اعتبار سے صحیح منہج پر قائم نہ تھا۔ اس لیے اُس وقت کے علماء اس سے متوحش ہو کر اس کے خلاف ہو گئے۔ علماء نے ان لوگوں کے خلاف شدید ردِ عمل کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ من طلب العلم بالكلام تزندق (البداية والنهاية، 10/194)۔ جس نے کلام کے ذریعے علم طلب کیا، وہ زندیق ہو گیا۔
اکیسویں صدی میں وہ وقت آ گیا ہے، جب کہ اسلام میں عقلی غور و فکر کا آغاز کیا جائے۔ عقلی غور و فکر دین سے انحراف کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کو عقلی بنیاد (rational basis) پر پیش کیا جائے۔ اہل عقل کے فکری مستویٰ پر انھیں دین کو پہنچایا جائے تا کہ ان کا ذہن ایڈریس ہو، اور وہ اسلام پر زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کر سکیں۔ راقم الحروف کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج اسی قسم کی ایک کوشش ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ مختلف زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔ مثلاً عربی زبان میں الاسلام يتحدى، اور انگریزی زبان میں گآڈارائٹرز، وغیرہ۔
کچھ مسلمانوں نے اس مقصد کے نام پر ایک تحریک شروع کی، جس کو وہ إسلامية المعرفة (Islamization of knowledge) کہتے ہیں۔ مگر یہ تحریک صحیح خطوط پر نہیں۔ اس معاملے میں اصل کام اسلام کو جدید علم کی بنیاد پر پیش کرنا ہے، نہ کہ جدید علم کو اسلامائز کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues