Al-Risala · July 2018 · page 16

دینِ خداوندی کے دو دور

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۶

قرآن میں اظہارِ دین (التوبة، 9:33) کو پیغمبرِ اسلام کا نشانہ بتایا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نشانے کی تکمیل کے دو دور ہیں۔ پہلا دور روایتی دور (traditional age) تھا، جس کا اتمام سائنسی انقلاب سے پہلے وقوع میں آیا۔ اس دور میں رسول اور اصحابِ رسول کی جدوجہد سے ایسے حالات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا پر اسس شروع ہوا، جو موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب تک پہنچا۔ دوسرا دور آفاق و انفس کی نشانیوں کی دریافت (فصلت، 41:53) کے بعد کا دور ہے، جو پچھلے چار سو سال کے اندر سائنسی انقلاب کے ذریعے پیش آیا۔ اسی سائنسی انقلاب کو قرآن میں آفاق و انفس کی نشانیوں کے ظہور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسی لیے اس دوسرے دور کو قرآن (فصلت، 41:53) میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ گویا تبیینِ حق کے دو دور ہیں۔ ایک ہے روایتی دور میں تبیینِ حق، اور دوسرا ہے سائنسی دور میں تبیینِ حق۔ اس دوسرے دور میں وہ علمی فریم ورک (scientific framework) وجود میں آیا، جس کو استعمال کر کے اعلیٰ معرفت حاصل کی جائے، اور دینِ الحاد کا نظری طور پر خاتمہ کر دیا جائے۔ تبیین حق کے یہ وسائل اکیسویں صدی میں آخری طور پر حاصل ہو چکے ہیں۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ ان نئے امکانات کو استعمال کر کے دینِ الحاد کا نظری خاتمہ کر دیا جائے۔ یہی وہ دور ہے جس کی خبر حدیث میں شہادتِ اعظم کے الفاظ میں دی گئی ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں : هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ (صحيح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ حدیث میں بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والے ایک عظیم فتنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے لیے حدیث میں فتنة دهماء (ابوداؤد، حدیث نمبر 4242) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ فتنة دہیماء کا مطلب ہے، سیاہ فتنہ (black days)۔ یعنی ایسا زمانہ جب کہ کچھ دکھائی نہ دے۔ حق اور ناحق کو الگ کر کے دیکھنا نا ممکن ہو جائے۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمانے ایک ساتھ آئیں گے۔ یعنی ایک طرف سائنسی دریافتوں سے وہ مواقع کھلیں گے، جب کہ دینِ الحاد کو مغلوب کر کے اسلام کے دوسرے دور

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page