دینِ خداوندی کے دو دور
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۷
(تبیین ثانی) کو مکمل کیا جائے۔ لیکن عین اسی زمانے میں اہل باطل ایسے حالات پیدا کر دیں گے جو روشن دور کو عملاً تاریک دور بنا دیں گے۔ لوگوں کے لیے صحیح اور غلط میں تمیز کرنا ممکن نہ رہے گا۔ اس بنا پر لوگوں کے لیے یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ پیدا شدہ مواقع کو استعمال کر کے حق کی تبیین ثانی کے عمل کو مکمل کریں۔
اکیسویں صدی میں یہ فتنه دَهماء (تاریک فتنه) آخری طور پر ظاہر ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بظاہر بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ سرگرمیاں اندھیرے میں چھلانگ کے ہم معنی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں، میں امت مسلمہ کا ایک فرد ہوں، لیکن ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ جس زمانے میں ہیں، وہ زمانہ کیا ہے۔
موجودہ زمانہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے تبیین حق کا زمانہ ہے۔ یعنی وہ زمانہ جس میں امکانی طور پر سچائی کو پوری طرح کھول دیا گیا ہے ۔ یہ معلوم کرنا آخری حد تک ممکن ہو گیا ہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس طرح بے خبری کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں، جیسے کہ وہ اندھیرے میں بھٹک رہے ہوں۔
غالباً یہی وہ زمانہ ہے جس کی حدیث میں ان الفاظ میں خبر دی گئی ہے کہ اس زمانے میں الْأَئِمَّةُ الْمُضِلُّونَ (مسند احمد ، حدیث نمبر 27485) ظاہر ہوں۔ یعنی گمراہ کرنے والے رہنما ۔ یہ گمراہ کرنے والے لوگ کون ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو امت کو غلط نشانے کی طرف دوڑا دیں گے۔ اس دور میں اصل کرنے کا کام تو یہ ہوگا کہ نئے امکانات کو دریافت کر کے لوگوں کو اعلیٰ معرفت پر کھڑا کیا جائے۔ مگر وہ یہ کریں گے کہ امت کو یہ بتائیں گے کہ ساری دنیا تمھاری دشمن ہے، ان سے لڑو۔ اس طرح وہ امت کو منفی سوچ کا کارخانہ بنا دیں گے۔
کچھ لوگ امت کو فرضی فخر (false pride) پر کھڑا کریں گے۔ قدیم یہود کے اندر بگاڑ کے دور میں ایک کلچر پیدا ہوا، جس کو جوئش سپرامیزم (Jewish supremacism) کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues