Al-Risala · July 2018 · page 18

دینِ خداوندی کے دو دور

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۸

یعنی یہودی برتری کا تصور۔ یہ لوگ امت کے افراد میں مسلم برتری (Muslim supremacism) کا کلچر جاری کر دیں گے۔ وہ مسلمانوں کو فرضی فخر کی غذا دیں گے، جس سے لوگ وقتی طور پر خوش ہو جائیں۔ لیکن انھیں دینِ خداوندی کے احیا کا کوئی مثبت نشانہ نہیں ملے گا۔

کچھ لوگ مسلمانوں کو یہ سبق دیں گے کہ تمھارا کام یہ ہے کہ تم ساری دنیا میں اسلام کی عظمت کا جھنڈا لہراؤ اس طرح وہ مسلمانوں کے اندر ایک ایسا ذہن پیدا کر دیں گے جو اپنے اعلان کے اعتبار سے تو اسلامی ذہن ہو گا، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے صرف تخریبی ذہن۔ ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 145)۔ یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا، تو مبارک ہیں ایسے اجنبی لوگ۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بعد کے زمانے میں کوئی دور ایسا آئے گا، جب کہ اسلام کا وجود باقی نہ رہے۔ اسلام کے اجنبی ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اصل ماڈل کا لوگوں کے لیے اجنبی ہو جانا۔ یعنی اس دور میں اسلام بظاہر پوری طرح موجود ہو گا، لیکن اسلام کی اصل اسپرٹ باقی نہ رہے گی۔ اس زمانے میں اسلام اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے مفقود ہو گا، نہ کہ اپنی شکل کے اعتبار سے۔

غالباً اس حدیث کا ایک مطلب یہ ہے کہ بعد کے دور میں لوگ دین کے خود ساختہ ماڈل کو لے کر سرگرم ہو جائیں گے۔ اس لیے ایسی حالت میں جب ان کے سامنے دین کا اصل ماڈل پیش کیا جائے گا تو وہ ان کو اجنبی معلوم ہوگا۔ اس وقت جو لوگ اجنبیت کے پردے کو پھاڑ کر اسلام کے اصل ماڈل کو پہچانیں، اور پوری طرح اس کا ساتھ دیں، وہ اللہ کے نزدیک قابلِ مبارک باد لوگ ہوں گے۔ ☆☆☆☆☆ موجودہ مسلمانوں کو اگر مجھے ایک مشورہ دینا ہو تو میں کہوں گا—جذباتی کارروائیوں سے بچئے اور سوچے سمجھے عمل کا طریقہ اختیار کیجیے، اور پھر کامیابی آپ کے لیے اتنا ہی یقینی بن جائے گی جتنا کہ آج کی شام کے بعد کل کی صبح کو سورج کا نکلنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page