فقہ الاقلیات
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۲
ماڈل میں اصل چیز دعوت الی اللہ ہے، کوئی دوسری چیز اس مسنون ماڈل کا ابدی حصہ نہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے عمل کی پلاننگ اس طرح کریں کہ وہ جہاں بھی ہوں، دعوت الی اللہ کا پیس فل کام مسلسل طور پر جاری رہے۔ جو روش دعوت الی اللہ کے کام کو موقوف کر دے، یا دعوت الی اللہ کے کام میں رکاوٹ ڈالنے والی ہو، وہ مسلمانوں کو مکمل طور پر چھوڑ دینا ہے۔ یہی مطلب ہے قرآن کی آیت کا کہ وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ (74:5)۔ یعنی ڈرٹی پریکٹس (dirty practice) کو چھوڑ دو۔ رسول اللہ نے جو طریقہ مکی اور مدنی دور میں یکساں طور پر اختیار کیا، اس کو دیکھ کر اس کو سمجھا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ رجز سے مراد نزاعی طریقہ ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ نزاعی طریقہ کو چھوڑ دو تا کہ دعوت الی اللہ کا کام پرامن اور معتدل انداز میں جاری رہے۔
اس اصول کے تحت پیغمبر اسلام نے مکے میں بھی اور مدینے میں بھی یکساں طور پر عمل کیا۔ آپ کا اصل گول دعوت الی اللہ تھا۔ جو کام آپ کے دعوتی مشن میں رکاوٹ ڈالے، وہ آپ کے لیے رُجز کی حیثیت رکھتا تھا۔ مثلاً اس وقت مکہ کو بت پرستی کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ کعبہ میں تقریباً 360 بت رکھ دیے گئے تھے۔ لیکن آپ نے ان بتوں کے خلاف براہ راست کوئی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ عملاً ان کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھا۔ اس اصول کے معاملے میں آپ اس آخری حد تک پہنچے کہ جب آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپ نے تقریباً سولہ مہینے تک یہود کے قبلے کو اپنا قبلہ بنا لیا۔ تاکہ دعوت الی اللہ کے کام کا تسلسل اسمود (smooth) طور پر جاری رہے۔ اہل اسلام کے لیے نہ کوئی اقلیتی فقہ ہے، اور نہ کوئی اکثریتی فقہ۔ اہل اسلام کو ہر جگہ یہ کرنا ہے کہ وہ سیاسی اور غیر سیاسی نزاع سے پرہیز کریں۔ وہ امن (peace) کو اصل اجتماعی اصول قرار دے کر معتدل انداز میں زندگی گزاریں۔ وہ عقیدہ اور عبادت، اور اخلاق کے آزاد دائرے میں اپنے آپ کو اسلام کی روش پر قائم کریں، اور وقت کے نظام سے ٹکراؤ کو اپنے لیے شجر ممنوعہ سمجھتے ہوئے زندگی گزاریں، وہ أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052) کے فارمولے پر عمل کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues