حکومت کا معاملہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۳
حکومت کا معاملہ
قرآن وسنت اور صحابہ کے عمل پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حکومت کا کوئی واحد آئیڈیل ڈھانچہ نہیں ہے۔ حکومت کا معاملہ سماجی صورت حال کے تابع ہے، نہ کہ پیشگی طور پر کسی مقرر کردہ معیار کے تابع ۔ حکومت کا معاملہ نماز اور روزے کی طرح مقدس معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ عملی صورت حال کے تابع ہے۔ جیسی عملی صورت حال، ویساہی حکومت کا ڈھانچہ ۔ یہی بات فطرت کے تقاضے کے مطابق ہے۔
اگر حکومت کا پیشگی طور پر کوئی معیاری نظام مقرر کر دیا جائے تو موجودہ دنیا میں ایسا معیاری نظام تو کبھی قائم نہیں ہوگا، البتہ معیاری نظام قائم کرنے کے نام پر لوگ ابدی طور پر لڑتے جھگڑتے رہیں گے۔ صحیح یہ ہے کہ اسلام میں دعوت اور تعلیم کا عمل ابدی طور پر یکساں حالت میں مطلوب ہے، اور جہاں تک حکومت کا معاملہ ہے۔ تو اس کا اصول یہ ہے کہ جیسے سماجی حالات، ویساہی حکومت اور سیاست کا معاملہ۔
اسی لیے قرآن میں حکومت کے فارم کے بارے میں مختلف صورتوں کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً حضرت سلیمان کی حکومت، ملکہ سبا کی حکومت، حضرت یوسف کی حکومت، وغیرہ۔ ان میں سے حکومت کا ہر ڈھانچہ کسی تنقید کے بغیر قرآن میں مذکور ہے۔ لیکن ان میں سے کسی حکومت کے ڈھانچہ کو نہ تو رد کیا گیا ہے، اور نہ کسی ڈھانچہ کی مدح کی گئی ہے۔
حکومت کے ڈھانچہ کو اضافی حیثیت دینا، اپنے اندر بہت بڑی حکمت رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ حکومت کا ڈھانچہ خواہ کوئی بھی ہو، اس کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے رہو۔ کسی کے ساتھ ٹکراؤ نہ کرو۔ حکومت سے اگر ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو جائے تو اس کو پیچ کر کے یہ کوشش کرنا ہے کہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ حکومت کے معاملے میں اسلام کا رویہ غیر نزاعی رویہ (non-confrontational approach) ہے۔ اس اصول کی بنا پر یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ سماج میں ہمیشہ امن قائم رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues