بنو اسماعیل کا رول
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۸
فطرت کے ماحول میں پرورش پائے، اور اس وقت کے تمدنی بگاڑ سے محفوظ رہے۔ یہ ایک صحرائی منصوبہ تھا۔ اس کو اس اعتبار سے ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy) کہا جاسکتا ہے۔ صحرا کے اس سادہ ماحول میں اس قوم کے اندر فطری طور پر توالد وتناسل کا عمل شروع ہوا، جس کے ذریعے اس قوم میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ تقریباً ڈھائی ہزار سال میں ایک نسل بن کر تیار ہوگئی، جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ یہ نسل ایک نہایت جان دار نسل تھی، جس کو ایک مغربی مفکر نے نیشن آف ہیروز (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔
بنو اسماعیل کا رول
وہ لوگ جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے، وہ انھیں بنی اسماعیل کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں ہر جگہ دنیا میں جبری بادشاہت کا نظام تھا۔ اس وقت عرب کی سرحد پر دو بڑی سلطنتیں تھیں ـــ ایرانی سلطنت (Sasanid Empire)، رومی سلطنت (Byzantine Empire)۔ یہ سلطنتیں جابر سلطنتیں تھیں۔ ان کی وجہ سے اس وقت کی دنیا میں آزادانہ سوچ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس لیے ترقی کا عمل رکا ہوا تھا۔ اس زمانے کی ان سلطنتوں نے خود آغاز کر کے ٹکراؤ کی صورت پیدا کی۔ اس کے نتیجے میں اصحاب رسول سے ان کا ٹکراؤ ہوا، اور آخر کار مختلف احوال سے گزرتے ہوئے دونوں سلطنتوں کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد دنیا میں آزادیٔ فکر کا دور شروع ہوا۔ اس واقعہ کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں، ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے، قدیم ٹیلے جھک گئے : He stood, and measured the earth: he beheld, and drove asunder the nations, and the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills did bow (Habakkuk, 3:6)
سیاسی جبر کے اس نظام کا خاتمہ ایک بے حد مشکل کام تھا۔ لیکن خدا کی توفیق سے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ دونوں سلطنتوں میں باری باری ٹکراؤ ہوا۔ پہلے ایرانیوں نے رومیوں کو بری طرح شکست دی۔ اس کے بعد رومیوں نے جوابی اقدام کر کے ایرانی سلطنت کو توڑ ڈالا۔ یہ دونوں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues