Al-Risala · July 2018 · page 29

جدید تہذیب کا آغاز

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۲۹

واقعہ دس سال کی مدت میں ہوا۔ جس کا ذکر قرآن میں سورہ الروم کے آغاز میں کیا گیا ہے۔ اس طرح بنو اسماعیل کو یہ موقع ملا کہ وہ آسانی کے ساتھ دونوں جابرانہ سلطنتوں کا خاتمہ کر دے، اور دنیا میں آزادی کے دور کا آغاز ہو۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں پہلی بار آزادانہ سوچ (free thinking) اور ترقی کا دروازہ کھلا، اور آخر کار دنیا توہماتی دور سے نکل کر سائنٹفک دور میں داخل ہو گئی۔ اس انقلاب کے بعد ایشیا، افریقہ اور یورپ میں مسلم دور کا آغاز ہوا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ شام اور فلسطین کے وہ علاقے مسلم اقتدار کے تحت آگئے، جن کو مسیحی لوگ مقدس مانتے تھے۔ اس کے بعد یورپ کی مسیحی قوموں کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ وہ شام و فلسطین کے مقدس علاقوں کو مسلمانوں (بنو اسماعیل) کے قبضہ سے واپس لیں۔ اس مقصد کے لیے مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ کا ایک سلسلہ چھڑ گیا۔ یہ جنگی سلسلہ جس کو صلیبی جنگ (crusades) کہا جاتا ہے، وہ تقریباً دو سو سال تک جاری رہا۔ لیکن مسلمان اس زمانے میں اتنا زیادہ طاقت ور ہو چکے تھے کہ دو سو سال کی متحدہ جنگ کے باوجود یورپ کی مسیحی قوموں کو کامل شکست ہوئی، جس کو مؤرخ گبن نے ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) کہا ہے۔ یہ شکست مسیحی قوموں کے لیے ایک دھماکے کے مانند تھی۔ اس دھماکے نے مسیحی قوموں کے اندر نئی سوچ کا آغاز کیا۔ اس کے بعد ابتداء نشاۃ ثانیہ (Renaissance) اور پھر مغربی تہذیب (western civilization) کا دور آیا، اور دنیا کی تصویر یکسر بدل گئی۔

جدید تہذیب کا آغاز

صلیبی جنگوں میں شدید شکست کے بعد یورپ کی مسیحی قوموں میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی۔ اس سوچ کو ایک مبصر نے اسپرچول کروسیڈس (spiritual crusades) کا نام دیا ہے۔ صلیبی جنگوں میں ناکامی کے بعد یورپ کی مسیحی قوموں میں نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کا دور آیا۔ اس سے مسیحی قوموں کا ذہن ٹرگر (trigger) ہوا۔ اس سے ان کے اندر نئی سوچ پیدا ہوئی۔ یہ سوچ پیدا ہوئی کہ ہم جنگ کے میدان میں مسلمانوں سے نہیں جیت سکتے۔ اس لیے اب ہمیں اس معاملے میں

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page