Al-Risala · July 2018 · page 30

دو عالمی جنگیں

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۰

نئی پلاننگ کرنا چاہیے۔ اس طرح دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ مسیحی قوموں کے اندر جنگ کے میدان کے بجائے بڑے پیمانے پر فطرت (nature) کا میدان مطالعے کا موضوع بن گیا۔ وہ دھیرے دھیرے مکمل طور پر فطرت کے رموز کو دریافت کرنے میں مشغول ہوگئے۔ ان دریافتوں کے بعد دھیرے دھیرے دنیا میں وہ دور آیا، جس کو ٹکنالوجی کا دور (age of technology) کہا جاتا ہے۔ اس پر اس کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی قو میں دنیا کی غالب قو میں بن گئیں ۔ یہ واقعہ کسی سازش کے تحت نہیں ہوا، بلکہ ایک فطری عمل (natural process) کے تحت پیش آیا۔ ٹکنالوجی کی اسی دریافت کا یہ نتیجہ تھا کہ جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی۔ صنعتی انقلاب (industrial revolution) کا دور دنیا میں آیا۔ ٹکنالوجی کی صورت میں ایک عظیم خزانہ نیچر میں چھپا ہوا تھا، وہ سب دریافت ہوا، اور آخر کار یہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوگئی، جس کو سائنسی تہذیب کا دور کہا جاتا ہے۔

دو عالمی جنگیں

ترقیات کے نتیجے میں فطری طور پر قوموں میں رقابت (rivalry) شروع ہوگئی۔ اس رقابت نے بڑھتے بڑھتے عالمی جنگ کی صورت اختیار کرلی۔ چنانچہ بیسویں صدی میں دو بڑی جنگیں پیش آئیں، جن کو پہلی عالمی جنگ (1914-1918) اور دوسری عالمی جنگ (1945-1939) کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے دوسرے بڑے واقعات کی طرح ان جنگوں میں بھی فطرت کے اسباب اپنا کام کر رہے تھے، اور اسی کے نتیجے میں دونوں عالمی جنگیں پیش آئیں۔ لیکن تاریخ کے دوسرے منفی واقعات کی طرح ان جنگوں کا بھی براہ راست طور پر کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں فطری طور پر ایک نئی سوچ پیدا ہوئی۔ وہ یہ کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اس تجرباتی سوچ کے تحت انسانی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔ اس دور کو دور جنگ کے بجائے دور امن کا نام دیا جاسکتا ہے۔

دونوں عالمی جنگوں کا نتیجہ بتاتا ہے کہ ان جنگوں میں کسی بھی قوم کو کوئی بھی حقیقی کامیابی حاصل

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page