نتیجہ خیز طریقہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۴
میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، اس لئے یہی کہا کرو کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ کسی کا ذکر بڑھا چڑھا کر کرنا، یہ ایک ہلاکت خیز کلچر ہے۔ یہ کلچر پہلے پیغمبر سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک عام اسلوب بن جاتا ہے۔ اس سے قوموں میں حقیقت پسندانہ سوچ کا مزاج ختم ہو جاتا ہے۔ لوگوں کی سوچ ، لوگوں کی منصوبہ بندی ، ہر چیز غیر حقیقت پسندانہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے پیغمبر اسلام نے اس کلچر سے اپنی امت کو شدت کے ساتھ روکا۔
یہ کلچر اس طرح آتا ہے کہ لوگ پہلے پیغمبر کو شہنشاہ کونین، اور سرور دو عالم جیسے مبالغہ آمیز انداز میں ذکر کرتے ہیں۔ پھر یہ کلچر عام ہو کر دوسرے مفروضہ بڑوں کے لیے بولا جانے لگتا ہے۔ مثلاً امام، اکابر، شیخ العالم اور قائم الزماں، سید الملّت، وغیرہ۔ یہ سب قصیدہ خوانی کی زبان ہے۔ اور قصیدہ خوانی کی زبان ہمیشہ لوگوں کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) کا عمل روک دیتی ہے۔ لوگ اجتہاد کے بجائے تقلید کا طریقہ اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اندر ماضی پر فخر اور حال پر قناعت کا مزاج چھا جاتا ہے۔ ایسے لوگ دوبارہ کوئی بڑا کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ ان کا مزاج وہی بن جاتا ہے جس کو شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا— کیا قدیم شعراء نے پیوند کے برابر کوئی جگہ چھوڑی ہے (هل غادر الشعراء من متردم)۔
نتیجہ خیز طریقہ
قدیم مکہ میں آپ کے مخالفین کا ظلم بہت زیادہ بڑھ گیا تھا تو آپ کے اصحاب میں اس کے خلاف جوابی عمل کا ذہن پیدا ہوا۔ لیکن اس کے جواب میں پیغمبر نے جو طریقہ اختیار کیا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے: قال عمر: يا رسول الله علام نخفي ديننا ونحن على الحق، ويظهر دينهم وهم على الباطل ؟ قال: يا عمر إنا قليل قدرأيت مالقينا (السيرة النبوية لابن كثير، 1/441)۔ یعنی عمر فاروق نے کہا، اے اللہ کے رسول ہم کیوں اپنے دین کو چھپائیں، حالاں کہ ہم حق پر ہیں، اور وہ اپنے دین کو ظاہر کریں حالاں کہ وہ باطل پر ہیں۔ آپ نے کہا: اے عمر ہم تھوڑے ہیں، اور تم نے دیکھا ہے جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues