حقیقت پسندانہ مزاج
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۳
مثلکم، وإن الظن يخطئ ويصيب، ولكن ما قلت لكم: قال الله، فلن أكذب على الله (ابن ماجه، حدیث نمبر 2470)۔ یعنی طلحہ بن عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک باغ میں سے گزرا۔ وہاں آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھجور کو پیوند لگا رہے ہیں، آپ نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا نرکا گا بالے کر مادہ میں ملاتے ہیں، آپ نے کہا: میرے خیال سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لوگوں کو آپ کی یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے پیوند کاری (pollination) ترک کر دی۔ لیکن اس بار پھل کم ہوا، آپ کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا وہ تو میرا خیال تھا، اگر اس میں کچھ فائدہ ہے تو کر لیا کرو، میں بھی تمہاری مانند انسان ہوں۔ اور خیال کبھی غلط ہوتا ہے کبھی صحیح۔ لیکن اگر میں تمہیں کہوں کہ اللہ نے فرمایا، تو میں ہرگز اللہ پر جھوٹ نہ بولوں گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تجربہ سے سبق سیکھنا بھی دانش مندی کے حصول کا ایک درست ذریعہ ہے۔ تجربہ کوئی غیر متعلق چیز نہیں۔ تجربہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے فطرت کے ایک قانون کی دریافت ہے۔ جب انسان کو کوئی نیا مفید طریقہ دریافت ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے فطرت کے قانون کا ایک حصہ سمجھے، اور اس کو فوراً اپنے منصوبہ میں شامل کر لے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الكلمة الحكمة ضالة المؤمن، فحيث وجدها فهو أحق بها (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2687)۔ یعنی حکمت کی بات مومن کا گم شدہ مال ہے، وہ اس کو جہاں پائے، تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ تجربہ کے معاملے میں آدمی کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے لوگوں کا تجربہ ہے یا اغیار کا تجربہ۔ ہر تجربہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ تجربہ کے معاملے میں اپنے اور غیر کی کوئی تقسیم نہیں۔
حقیقت پسندانہ مزاج
پیغمبر اسلام نے اپنی امت کو ایک حکمت کی بات ان الفاظ میں بتائی: لا تطروني، كما أطرت النصارى ابن مريم، فإنما أنا عبده، فقولوا عبد الله، ورسوله (صحيح البخاري، حديث نمبر 3445)۔ یعنی میرا بیان بڑھا چڑھا کر نہ کرو، جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کا بیان کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues