دو عالمی جنگیں
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۲
آیا۔ اس نے محسوس کیا کہ نو آبادیاتی نظام فرانس کے لیے صرف کمزوری کا سبب بنا ہے۔ ان کالونیوں میں فرانس کو مسلسل طور پر متشددانہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس متشددانہ مزاحمت کا نتیجہ آخر کار یہ ہوا کہ فرانس نیوکلیئر سائنس اور ترقیاتی دوڑ میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گیا۔ چنانچہ جنرل چارلس ڈیگال کی قیادت میں فرانس نے اپنے تمام افریقی مقبوضات کو یک طرفہ طور پر چھوڑ دیا۔ اس کے بعد فرانس کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی اقتصادیات کو پر امن منصوبے کے تحت از سر نو منظم کرے۔ نتیجہ بتاتا ہے کہ فرانس اس نئی منصوبہ بندی کے معاملے میں پوری طرح کامیاب رہا۔ مثلاً آج ہوابازی (aviation) کے معاملے میں فرانس امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ جب کہ اس سے پہلے فرانس اس معاملے میں بہت پیچھے تھا۔
یہی معاملہ جرمنی کا ہوا۔ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی اس عزم کے ساتھ شامل ہوا تھا کہ وہ پورے یورپ کا قائد بنے گا۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ اس طرح ہوا کہ جرمنی یورپ کا سب سے کمزور ملک بن گیا۔ ان جنگوں کے نتیجے میں جرمنی نے اپنے جغرافی رقبے کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھو دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی نے اپنی نئی منصوبہ بندی شروع کی۔ یہ منصوبہ بندی اپنی نوعیت میں بڑی عجیب تھی، یعنی باقی ماندہ جرمنی (remaining part of Germany) کی بنیاد پر اپنی تعمیر نو کرنا۔ یہ شاید تاریخ میں ایک انوکھی منصوبہ بندی تھی۔ یہ منصوبہ بندی کامیاب رہی، اور آج جرمنی یورپ کی نمبر ایک طاقت بنا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے اپنے کھوئے ہوئے جغرافی رقبے کو دوبارہ کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا۔
اسی قسم کی انقلابی مثال جاپان میں پائی جاتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان بظاہر دنیا کا سب سے زیادہ برباد ملک بن چکا تھا۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جاپان کو نیوکلیئر بمباری کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جاپان کی بربادی نے جاپان کے مدبرین کے اندر نئی سوچ پیدا کی۔ اس نا قابل برداشت حادثے کو انھوں یکسر بھلا دیا۔ جاپان کےمدبرین نے اس منصوبہ پر اپنی قوم کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ اگر امریکا نے 1945 میں ہمارے ہیرو شیما اور ناگاساکی کو تباہ کیا تھا تو اس سے پہلے 1941 میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues