Al-Risala · July 2018 · page 33

تائید عام

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۳

ہم امریکا کے پرل ہاربر کو تباہ کر چکے تھے۔ اس طرح معاملہ برابر ہوگیا۔ ماضی کو بھلاؤ، اور مستقبل کی تعمیر کرو۔ اس طرح جاپان کے ذریعے یہ مثال قائم ہوئی کہ کس طرح بربادی کے بعد نئی پلاننگ کے ذریعے دوبارہ ایک بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ گویا حالات کی زبان تھی، اور تاریخ میں خالق کا مینجمنٹ اسی طرح حالات کے دباؤ کے تحت اپنا کام کرتا ہے۔

تائید عام

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ الطبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: اِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْاِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی ضرور اللہ تعالیٰ اسلام کی مدد ان لوگوں کے ذریعے کرے گا جو دین میں سے نہ ہوں گے۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی ضرور اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ یہ دراصل اسلام کے حق میں ایک پیشین گوئی (prediction) ہے۔ پیشین گوئی الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی اکثر مشہور کتابوں میں آئی ہے۔ اس حدیث پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عالمی حالات میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوگا، جو اس حد تک پہنچے گا کہ اللہ کے دین کو عمومی اعتراف (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ یہ وقت وہ ہوگا جب کہ اپنے اور غیر (we and they) کا فرق مٹ جائے گا۔ کچھ لوگ اگر مومنین ہوں گے تو بقیہ لوگ مؤيدين (supporters) بن جائیں گے۔ اس طرح اہل ایمان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ کسی بھی قسم کی حقیقی رکاوٹ کے بغیر اللہ کے دین کو سارے عالم میں پہنچائیں۔ اللہ کی کتاب کو ہر گھر میں داخل کردیں۔

حالات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دور عملاً دنیا میں آچکا ہے۔ اب اشاعت اسلام کے لیے دوسری قوموں کی طرف سے کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں۔ اب اگر رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے تو صرف

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page