Al-Risala · July 2018 · page 40

دست او معمار تقدیر امم

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۴۰

لوگوں کا، دوسرا بقیہ کشمیری مسلمانوں کا۔ حنفی اور شافعی کا یہ جھگڑا نہ صرف دونوں کے مدرسوں اور مسجدوں کو الگ کر دیتا، بلکہ اپنے اپنے فقہی مسالک کی صحت و برتری ثابت کرنے کی کوشش میں اصل تبلیغی کام پس پشت پڑ جاتا۔ کشمیری مسلمان دو جتھوں کی صورت اختیار کر کے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیتے۔ جو قوت دین حق کی اشاعت میں صرف ہوتی، وہ آپس کے جھگڑوں میں بر باد ہو جاتی۔ نسلیں گزر جاتیں مگر یہ اختلاف کبھی ختم نہ ہوتا۔

میر سید علی ہمدانی نے صرف اساسات دین کی تبلیغ کی۔ انھوں نے فقہی مسلک کی کوئی بحث نہیں چھیڑی۔ انھوں نے یہاں تک احتیاط سے کام لیا کہ اپنا شافعی المسلک ہونا اپنے پیروؤں سے پوشیدہ رکھا۔ عام مسلمانوں کے ساتھ آپ خود بھی حنفی طریقہ پر نماز پڑھتے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اسی کے مطابق عبادت کرنے کی تلقین کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر میں ان کو کام کرنے کے مکمل مواقع ملے۔ ان کو ہر طبقہ کا تعاون حاصل رہا۔ غیر متعلق مسائل کے الجھاؤ سے وہ بالکل محفوظ رہے۔ اپنی دعوتی جدوجہد میں ان کو اتنی زیادہ کامیابی ہوئی کہ کشمیر دائمی طورپر مسلم اکثریت کا علاقہ بن گیا۔ امیر کبیر اگر یہاں حنفی مسلک اور شافعی مسلک کی بحثیں چھیڑتے تو ان کو یہ کامیابی نہیں ہو سکتی تھی، اور بالفرض اگر کوئی کامیابی ہوتی تو وہ بھی اس قیمت پر کہ ان کی آمد کشمیری مسلمانوں کو باہم لڑنے والے دو گروہوں میں بانٹ دینے کا سبب بن جاتی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لوگ اس راہ پر چلیں ان کا کسی سے اختلاف نہیں ہوگا۔ با مقصد آدمی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ خود امیر کبیر کے حالات بتاتے ہیں کہ 73 سال کی عمر میں موضع پکھلی (کشمیر) کے کچھ شر پسند لوگوں نے آپ کو زہر دے دیا، اور اسی میں آپ کا انتقال ہوا۔ تاہم اس قسم کا اختلاف محض ذاتی وجوہ سے ہوتا ہے اور وہ داعی کو صرف ذاتی نقصان پہنچاتا ہے، جب کہ ایک غیر دینی مسئلے کو دینی مسئلہ بنا نا دین میں فرقہ بندی کو جنم دیتا ہے، جو اتنا بڑا جرم ہے کہ کسی گروہ سے وہ تمام نعمتیں چھن جاتی ہیں جو کتاب الہی کا حامل ہونے کی حیثیت سے اس کے لیے مقدر کی گئی تھیں۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی کی زندگی اسلامی طریق کار کی نہایت کامیاب عملی مثال ہے۔ اپنی پر امن

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page