دست او معمار تقدیر امم
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۹
امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف ردعمل کے طور پر بنا، اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ سلطان قطب الدین کی حکومت تھی۔ اس کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں ۔ آپ نے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر اس کو اصلاحِ حال کی طرف متوجہ کیا۔ تاہم آپ نے اس کو اقتدار سے ہٹانے اور اس کی جگہ صالح حکمراں لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی ۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خود اپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔ پھر یہ پروگرام بھی کوئی کنونشن یا کانفرنس کا انعقاد نہ تھا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ وہ اور ان کے رفقا ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور پر امن طور پر یہاں کے باشندوں میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ انھوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی، یہاں کے حالات سے اپنے کو ہم آہنگ کیا۔ اجنبی دیس میں اپنے لیے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔ اس طرح صبر و برداشت کی ایک زندگی گزارتے ہوئے اپنے خاموش دعوتی مشن کو جاری رکھا۔ کشمیر میں اسلام کشمیر میں اسلام کا ابتدائی داخلہ اگر چہ محمد بن قاسم (96-66ھ) کے زمانہ میں ہوا۔ تاہم ریاست میں اسلام کی نمایاں اشاعت غالباً سید بلبل شاہ قلندر ترکستانی کے وقت سے شروع ہوئی۔ سات سو سال پہلے کشمیر میں ایک بودھ راجہ رنچن شاہ کی حکومت (23-1320ء) تھی ۔ یہ راجہ سید بلبل شاہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوا۔ اس زمانہ میں لوگ اپنے سرداروں کے دین پر ہوتے تھے ۔ راجہ کو دیکھ کر کشمیریوں کی ایک تعداد مسلمان ہوگئی۔ سید بلبل شاہ فقہی مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے۔ چنانچہ اس وقت جو لوگ مسلمان ہوئے، وہ ان کے اثر سے حنفی مسلک کے مطابق عبادت کرنے لگے۔ میر سید علی ہمدانی کی تبلیغ سے جب کشمیری باشندے مسلمان ہونے لگے تو ایک مسئلہ پیدا ہو گیا، وہ یہ کہ یہ نو مسلم کس فقہی مسلک پر عبادت کریں۔ امیر کبیر خود شافعی المسلک تھے، اور اس وقت کشمیر میں جو مسلمان تھے، وہ حنفی المسلک تھے۔ امیر کبیر اگر ان نومسلموں کو اپنے فقہی مسلک کی تلقین کرتے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں میں دو گروہ بن جاتے۔ ایک امیر کبیر کے ہاتھ پر اسلام لائے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues