Al-Risala · July 2018 · page 44

نتیجہ خیز آغاز

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۴۴

نتیجہ خیز آغاز

ایک صاحب لکھتے ہیں : میں آپ کی کئی تقریروں کو سننے کے بعد آپ کی اوریجنل اور گہری فکر سے میں کافی متاثر ہوا ہوں۔ لیکن آپ کی باتوں کو سننے کے بعد آپ کے اسٹیٹس کو (status quo) کے نظریے کے بارے میں میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ اگر اسٹیٹس کو کو قبول کرنا، اتنا ونڈرفل معاملہ ہے تو ہندوستان برٹش حکومت کے ماتحت ہی رہتا۔ دوسرے ممالک، جیسے ترکی، ملیشیا، انڈونیشیا، سوڈان، اور نائیجیریا وغیرہ تو اپنے غیر ملکی رولر (rulers) کے تحت ہی باقی رہتے۔ آپ مجھے ان مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دیجیے۔ (جاوید اظہر خان، پاکستان) جواب : اسٹیٹس کو کا مطلب ہے حالت موجودہ، بطور خاص سماجی اور سیاسی معاملات میں : the existing state of affairs, particularly with regard to social or political issues. میں اسٹیٹس کو ازم کو جس معنی میں استعمال کرتا ہوں، اس کا مطلب حالت موجودہ کو باقی رکھنے پر ہمیشہ کے لیے راضی رہنا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق طریق کار سے ہے۔ یہ ایک لفظ میں نتیجہ رخی طریقہ کو اختیار کرنا ہے۔ یعنی حالت موجودہ سے براہ راست ٹکراؤ کرنے کے بجائے مواقع کو دریافت کرنا، اور حالت موجودہ کو برقرار رکھتے ہوئے جو ابتدا ممکن ہو، اس سے اپنے عمل کا آغاز کرنا، اور غیر نزاعی (non-confrontational) انداز میں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی پرامن تعمیر کا طریقہ اختیار کرنا۔ اس ماڈل کی ایک کامیاب مثال ساؤتھ افریقہ ہے۔ ساؤتھ افریقہ میں ہندوستان کی طرح برٹش راج قائم تھا۔ وہاں حالات کے زیر اثر ایسا ہوا کہ براہ راست سیاسی لڑائی کا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا، بلکہ ایک مختلف انداز میں کام شروع ہوا۔ یعنی ساؤتھ افریقہ میں کام کا آغاز پوٹیکل ایکٹیویزم سے نہیں ہوا، بلکہ ایجوکیشنل ایکٹیویزم کے طور پر ہوا۔

یہ ایک صحیح آغاز (right beginning) کا معاملہ تھا۔ یعنی پہلے قوم کو تیار کرنا، اور اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page