نتیجہ خیز آغاز
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۴۹
واقع ہے۔ اس شہر کا قدیم حصہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے علاقوں میں شامل ہے۔ اس لیے پوری دنیا کے سیاح بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ یہاں ایک بہت مشہور مسجد ہے، جسے مسجد الجزار کہا جاتا ہے۔ اس مسجد میں سیاحوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ چنانچہ اسرائیل میں دعوتی کام کرنے والے ہمارے ساتھیوں نے مسجد الجزار میں تقسیم قرآن اسٹینڈ لگایا ہے، جہاں سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں آنے والے سیاحوں کے درمیان مختلف زبانوں میں قرآن کے ترجمے تقسیم کیے جاتے ہیں۔
• سی پی ایس (امریکہ) نے اسٹڈی سرکل کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ اس کے تحت امریکا کے مختلف اسٹیٹ میں موجود سی پی ایس ممبران کانفرنس کال کے ذریعے صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، اور اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ انھوں نے اگست 2016 میں شروع کیا تھا۔ اس عرصہ میں انھوں نے ’اظہارِ دین‘ کتاب ختم کرلی، اور اب وہ الاسلام‘‘ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ مطالعے کا یہ طریقہ پروگرام میں شرکت کرنے والوں کے بقول کافی فائدہ مند ہے۔
• مسٹر نسیم علی خان صاحب (ممبئی ٹیم) کی کوششوں سے یہ ہوا ہے کہ مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادمی نے صوبہ کے 36 ضلعوں کی 350 تسلیم شدہ لائبریری کے لیے ماہنامہ الرسالہ سبسکرائب کیا ہے۔ اس کے علاوہ نسیم خان صاحب نے ممبئی سے نکلنے والے مختلف اردو اخبارات میں صدر اسلامی مرکز کے مضامین شائع کرانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مثلاً ممبئی کے مشہور روزنامہ اردو ٹائمز، ممبئی اردو نیوز، دونوں میں جمعہ کے دن ادارتی صفحہ پر ایک مضمون آتا ہے۔ روزنامہ ہندوستان میں روزانہ ایک مضمون آتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اردو نیوز ایجنسی یو این این، نئی دہلی میں واقع ہے۔ یہ ایجنسی ہندوستان اور ہندوستان کے باہر کے تقریباً 240 اردو اخبارات کو خبریں فراہم کرتی ہے۔ خبروں کے ساتھ یہ ایجنسی صدر اسلامی مرکز کے مضامین بھی اپنے اخباروں کو بھیجتی ہے۔ یہ بھی مسٹر نسیم خان صاحب کی کوششوں سے شروع ہوا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جہاں جہاں اردو اخبار نکلتے ہیں، وہاں پر موجود سی پی ایس مشن کے لوگ اس طرح مشن کی اشاعت کا کام کر سکتے ہیں۔
• السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، مولانا صاحب! فروری 2017 میں دہلی کا سفر کئی باتوں میں میرے لئے یادگار سفر رہے گا۔ میں نے محسوس کیا کہ آپ کی تحریروں کو پڑھنے سے جو فائدہ مجھے ملا، وہ یہ ہے کہ میرے ذہن کی تشکیل نو (re-engineering) ہوتی رہی۔ لیکن آپ سے براہِ راست ملنے پر مشن کو بہتر طریقہ سے سمجھنے کا موقع ملا، اور خیالات میں زیادہ وضوح (clarity) حاصل ہوئی ۔ خاص طور سے جب سورۂ البقرہ کی آیت نمبر 47 کی تفسیر میں آپ نے بتایا کہ عرب کی سرزمین میں تیل کے ذخائر کا ملنا رب تعالی کے تخلیقی منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔ وہ یہ کہ اس دولت کو جسے سیال سونا (Liquid Gold) کہا جاتا ہے، اس کا استعمال اللہ کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues