ایک دانش مندانہ اصول
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۶
یہ تبدیلی پیغمبر اسلام کی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ نہ تھی۔ بلکہ وہ پیغمبر کی تعلیمات کے عین مطابق تھی۔ پیغمبر کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ تھا کہ جب نظری حکمت (theoretical wisdom) قابل عمل نہ ہو تو اس وقت عملی حکمت (practical wisdom) کو اختیار کر لیا جائے ۔ کیوں کہ اس طرح کے معاملے میں اصل مطلوب چیز استحکام (stability) ہے ۔ پیغمبر اسلام کے بعد جب لوگوں نے دیکھا کہ خلافت کے تحت سیاسی استحکام (political stability) حاصل نہیں ہوا، جب کہ خاندانی حکومت کے تحت سیاسی استحکام حالات کے اعتبار سے قابل عمل (workable) طریقہ ہے، تو انھوں نے یہ کیا کہ اس معاملے میں پہلے آپشن (first option) کے بجائے دوسرے آپشن (second option) کو اختیار کر لیا۔ اسی دانش مندی کا نتیجہ تھا کہ اسلام کی تاریخ اس کے بعد مستحکم انداز میں بدستور تقریبا ہزار سال تک چلتی رہی۔
جیسا کہ معلوم ہے، بعد کے زمانے میں امت کے علماء نے اس اصول پر اتفاق کر لیا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ جیسا کہ امام النووی (وفات: 676ھ) کے الفاظ ہیں: وأما الخروج عليهم وقتالهم فحرام بإجماع المسلمين وإن كانوا فسقة ظالمين (شرح صحيح مسلم للنووی، 12/229)۔ اس مسئلہ میں علمائے امت کا یہ اجماع بلا شبہ نظری حکمت کی بنیاد پر نہ تھا، بلکہ وہ عملی حکمت (practical wisdom) کی بنیاد پر تھا۔ ایک اجتماعی حکمت حدیث کی کتابوں میں رسول اللہ کے زمانے کا ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: أن أعرابيا بال في المسجد، فثار إليه الناس ليقعوابه، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعوه، وأهريقوا على بوله ذنوبا من ماء، أو سجلا من ماء، فإنما بعثتم ميسرين ولم تبعثوا معسرين (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6128)۔ یعنی ایک دیہاتی نے مدینہ کی مسجد میں پیشاب کر دیا، لوگ اس کی طرف غصہ ہو کر اس کو پکڑنے کے لیے بڑھے، لیکن رسول اللہ صلی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues