پیغمبر اسلام، پیغمبر حکمت
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۷
اللہ علیہ وسلم نے کہا: اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے اس جگہ پر پانی بھرا ہوا ایک ڈول بہادو، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملہ میں پیغمبر اسلام کا اصول کیا تھا۔ وہ اصول رعایت پر مبنی تھا۔ یعنی لوگوں کے ساتھ سخت گیری کا معاملہ نہ کرنا۔ بلکہ نرمی اور رعایت کا معاملہ کرنا۔ مزید اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اگر کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تو اس کو وہیں کا وہیں ختم کر دیا جائے، اس کو مزید بڑھنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس طرح کے واقعہ میں ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی غلطی ہمیشہ ایک چھوٹی غلطی ہوتی ہے، لیکن اگر اس واقعہ پر شدید رد عمل ظاہر کیا جائے تو ایک چھوٹا واقعہ بڑھ کر ایک بڑا واقعہ بن جائے گا۔ حتی کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک چھوٹا واقعہ بڑھتے بڑھتے بڑے فساد کی صورت اختیار کرلے۔ اجتماعی معاملات میں اسلام کا طریقہ تیسیر کا طریقہ ہے، نہ کہ تعسیر کا طریقہ۔
پیغمبر اسلام، پیغمبر حکمت
قرآن میں پیغمبر اسلام کے بارے میں متعدد آیتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ آپ کا ایک کام یہ تھا کہ آپ انسان کو خدا کی کتاب پہنچائیں۔ آپ کا دوسرا کام یہ تھا کہ آپ لوگوں کو حکمت کی تعلیم دیں۔ یہ دونوں کام ایک دوسرے سے الگ بھی تھے، اور ایک دوسرے سے متعلق بھی۔
حکمت کا لفظی مطلب ہے وزڈم (wisdom)۔ زندگی کے معاملات کو درست طور پر انجام دینے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت جس چیز کی ہے، وہ وزڈم ہے۔ وزڈم ہو تو آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ درست منصوبہ بنائے، اور وزڈم نہ ہو تو وہ غلط منصوبہ بنائے گا، جو مسئلہ کو بڑھانے والا ہوگا، نہ کہ مسئلہ کو حل کرنے والا۔
انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے اکثر حالات کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ متاثر ذہن سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں پر امن تدبیر کے ذریعہ مسئلہ حل کرنا چاہیے، وہاں وہ تشدد کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues