Al-Risala · August 2018 · page 12

حاصل کرتے رہنا۔ حقیقی نمازی وہی

الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۱۲

ہے کہ حضرت ابراہیم کی زندگی کی روشنی میں قربانی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ابراہیم 1985 ق م میں عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 175 سال سے زیادہ عمر پائی۔ اُر‘‘ قدیم عراق کی راجدھانی تھا۔ مزید یہ کہ یہ علاقہ قدیم آباد دنیا (میسو پوٹامیا) کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی تمام اعلیٰ صلاحیتوں اور کامل درد مندی کے ساتھ اپنے معاصرین کو توحید کی طرف بلایا۔ اس وقت کے عراقی بادشاہ نمرود (Nimrod) تک بھی اپنی دعوت پہنچائی۔ لیکن کوئی بھی شخص آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا، حتیٰ کہ آپ جب اتمام حجت کے بعد عراق سے نکلے تو آپ کے ساتھ صرف دو انسان تھے۔ آپ کے بھتیجے اور آپ کی اہلیہ۔ حضرت ابراہیم سے پہلے، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان تمام پیغمبروں کے ساتھ یکساں طور پر یہ ہوا کہ لوگ ان کا انکار کرتے رہے۔ انھوں نے پیغمبروں کا استقبال استہزا (يس، 36:30) کے ساتھ کیا۔ حضرت ابراہیم کے اوپر پیغمبر کی تاریخ کا ایک دور ختم ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ دعوت الی اللہ کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس منصوبہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا انتخاب کیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کے ساتھ عراق سے نکلے، اور مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے آخر کار وہاں پہنچے جہاں آج مکہ آباد ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، آپ کا یہ سفر فرشتہ جبرئیل کی رہنمائی میں طے ہوا (تاریخ الطبری، 1/254)۔ ہاجرہ پیغمبر ابراہیم کی بیوی تھیں۔ اُن سے ایک اولاد پیدا ہوئی جس کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ ایک خدائی منصوبہ کے تحت، حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اُن کے چھوٹے بچے (اسماعیل) کو عرب میں مکہ کے مقام پر لے جا کر بسا دیا جو اُس وقت بالکل غیر آباد تھا۔ اس واقعہ کے بارہ میں قرآن میں مختصر طور پر یہ حوالہ ملتا ہے :

”اور جب ابراہیم نے کہا، اے میرے رب، اس شہر کو امن والا بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues

Printed page