Al-Risala · August 2018 · page 11

حاصل کرتے رہنا۔ حقیقی نمازی وہی

الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۱۱

انسانوں کا خیر خواہ نہ بنے تو اس کی زکوۃ ادھوری زکوۃ مانی جائے گی۔ ایسے آدمی کی زکوۃ پورے معنوں میں زکوۃ نہیں ہوگی (البقرۃ، 2:264)۔

حج

اسلامی ارکان میں سے پانچواں رکن حج ہے۔ حج کے لفظی معنی ہیں قصد کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ شرعی اصطلاح میں، حج سے مراد وہ عبادتی سفر ہے جس میں آدمی اپنے وطن سے نکل کر مکہ (عرب) جاتا ہے اور وہاں ماہِ ذو الحجہ کی مقرر تاریخوںمیں حج کے مراسم ادا کرتا ہے اور خدا کے نام پر جانور کو قربان کرتا ہے۔ یہ حج کا فارم ہے۔ حج کی اسپرٹ قربانی (sacrifice) ہے۔ حج کا فارم اور حج کی اسپرٹ دونوں جب کسی کی زندگی میں اکٹھا ہوں تو وہ حج کی عبادت کرنے والا قرار پاتا ہے۔ حج کے دوران منیٰ کے مقام پر تمام حاجی، جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ انھیں تاریخوں میں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر مسلمان عیدِ اضحیٰ مناتے ہیں۔ عیدِ اضحی گویا کہ حج کی عبادت میں ایک قسم کی جزوی شرکت ہے۔ عیدِ اضحیٰ کے ذریعے تمام دنیا کے مسلمان مکہ میں کیے جانے والے حج کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: یا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر (3127)۔ یعنی اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم کی سنت ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے زمانے میں جو قربانی دی جاتی ہے، وہ اُس طریقے پر عمل کرنے کے لیے ہوتی ہے جس کا نمونہ حضرت ابراہیم نے قائم کیا تھا۔

اس لیے حج اور قربانی کی حقیقت کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس پہلو سے پیغمبر خدا، حضرت ابراہیم کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے۔ اس مطالعے سے نہ صرف یہ ہوگا کہ ہم کو حج اور قربانی کا تاریخی پس منظر معلوم ہوگا، بلکہ اس کی اصل حقیقت کو سمجھنا بھی ہمارے لیے ممکن ہو جائے گا۔ حج یا عیدِ اضحی میں قربانی دراصل حضرت ابراہیم کی سنت کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد ہے۔ اس لیے ضروری

‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues

Printed page