ذبیح عظیم
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۱۸
بے آب و گیاہ صحرا میں شروع ہونے والا تھا۔
قرآن کی سورہ نمبر 37 میں حضرت ابراہیم کے واقعے کا ذکر ہے۔ آپ نے اپنے ایک خواب کے مطابق، اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹا دیا۔ اُس وقت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے نے بتایا کہ تمھاری قربانی قبول ہوگئی، اب تم بیٹے کے بدلے ایک دنبہ ذبح کر دو۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ اُس موقع پر قرآن میں یہ آیت آئی ہے: ﴿وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (37:107)۔ یعنی ہم نے اسماعیل کو ایک عظیم قربانی کے ذریعے بچا لیا۔
اس آیت میں ذبح عظیم (عظیم قربانی) کا لفظ اسماعیل کے لیے آیا ہے، نہ کہ دنبہ کے لیے۔ دنبہ کو حضرت ابراہیم نے بطور فدیہ ذبح کیا، اور اسماعیل کو ایک عظیم تر قربانی کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ یہ عظیم تر قربانی کیا تھی، وہ یہ تھی کہ اس کے بعد اسماعیل کو اپنی ماں ہاجرہ کے ساتھ مکہ کے صحرا میں آباد کر دیا گیا، تا کہ اُن کے ذریعے سے ایک نئی نسل تیار ہو۔ اُس وقت یہ علاقہ صرف صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہاں اسباب حیات میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اس لیے اس کو قرآن میں ذبح عظیم کا درجہ دیا گیا۔ یہ عظیم قربانی، اللہ تعالیٰ کا ایک منصوبہ تھا، جس کو فرزند ابراہیم (اسماعیل) کے ذریعے عرب کے صحرا میں عمل میں لایا گیا۔ قرآن (ابراہیم، 14:37) میں اس واقعے کا ذکر مختصر اشارے کے طور پر آیا ہے اور حدیث میں اس کا ذکر تفصیل کے ساتھ ملتا ہے۔
قرآن میں حضرت ابراہیم کے اس خواب کا ذکر سورہ نمبر 37 میں آیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے خواب کے بعد جب اپنے بیٹے کو قربان کرنا چاہا تو اس وقت خدا کے فرشتے نے آپ کو بتایا کہ آپ بیٹے کے فدیہ کے طور پر ایک دنبہ ذبح کر دیں ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا (الصافات، 37:107)، اور جیسا کہ صحیح البخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اس کے بعد حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے ایک صحرائی مقام میں آباد کر دیا ۔ یہ وہی مقام تھا جہاں اب مکہ آباد ہے۔ اسی مقام پر بعد کو حضرت ابراہیم اور آپ کے بیٹے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues