Al-Risala · August 2018 · page 19

علامتی ذبیحہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۱۹

اسماعیل نے کعبہ کی تعمیر کی، اور حج کا نظام قائم فرمایا۔

علامتی ذبیحہ

ہاجرہ اور اسماعیل کو صحرا میں اس طرح آباد کرنے کا مقصد کیا تھا۔ اس کا مقصد تھا ایک نئی نسل بنانا۔ اس زمانے کی شہری آبادیوں میں مشرکانہ کلچر مکمل طور پر چھا چکا تھا۔ اس ماحول میں جو بھی پیدا ہوتا وہ مشرکانہ کنڈیشننگ کا شکار ہو جاتا۔ اس بنا پر اس کے لیے توحید کے پیغام کو سمجھنا ممکن نہ رہتا۔ متمدن شہروں سے دور صحرا میں ہاجرہ اور اسماعیل کو اس لیے بسایا گیا تاکہ یہاں فطرت کے ماحول میں ان کے ذریعہ سے ایک نئی نسل تیار ہو، ایک ایسی نسل جو مشرکانہ کنڈیشننگ سے پوری طرح پاک ہو۔ توالد و تناسل کے ذریعہ یہ کام جاری رہا یہاں تک کہ بنواسماعیل کی قوم وجود میں آئی۔ اسی قوم کے اندر 570ء میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب پیدا ہوئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو 610ء میں اللہ تعالی نے نبی مقرر کیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ بنو اسماعیل کے اندر سے آپ کو وہ قیمتی افراد ملے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے ۔ ان لوگوں کو ساتھ لے کر آپ نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر انقلاب کے مرحلے تک پہنچایا۔

حضرت ابراہیم کے ذریعے جو عظیم دعوتی منصوبہ زیر عمل آیا، حج کی عبادت گویا اسی کا ایک ریہرسل ہے۔ ذوالحجہ کے مہینے کی مخصوص تاریخوں میں ساری دنیا کے مسلمان اکٹھا ہو کر ریہرسل کے روپ میں اس تاریخ کو دہراتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کے ساتھ پیش آئی۔ اس طرح تمام دنیا کے مسلمان ہر سال اپنے اندر یہ عزم تازہ کرتے ہیں کہ وہ پیغمبر کے اس نمونہ کو اپنے حالات کے مطابق مسلسل دہراتے رہیں گے۔ ہر زمانے میں وہ دعوت الی اللہ کے اس عمل کو مسلسل زندہ رکھیں گے، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔

اس ابراہیمی عمل میں قربانی کو مرکزی درجہ حاصل ہے۔ یہ ایک عظیم عمل ہے جس کی کامیاب ادائیگی کے لیے قربانی کی اسپرٹ ناگزیر طور پر ضروری ہے۔ اس قربانی کی اسپرٹ کو مسلسل طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues

Printed page