اصحابِ رسول
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۲۴
تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی ، اُس نے اپنا انکھوا نکالا ، پھر اس کو مضبوط کیا ، پھر وہ موٹا ہوا اور پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا ۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے، تا کہ اُن سے منکروں کو جلائے۔ اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے اُن کے لیے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں اصحابِ رسول کے امتیازی اوصاف کو دو تاریخی پیشین گوئیوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک پیشین گوئی وہ جو تورات میں آئی ہے، اور دوسری پیشین گوئی وہ ہے جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔ تورات میں اصحابِ رسول کا پیشگی ذکر ان الفاظ میں آیا ہے کہ وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا:
He came with ten thousands of saints (Deuteronomy 33:2)
بائبل کے اِس حوالے کے مطابق، اصحابِ رسول قدسی کردار (saintly character) کے حامل تھے۔ اصحابِ رسول کی یہ قدسی صفات مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق، حسب ذیل ہیں: والذین معه ان صفات میں پہلی صفت وہ ہے جس کی طرف ”معہ“ کے لفظ میں اشارہ کیا گیا ہے، یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والے۔ یہ ساتھ انھوں نے کب دیا تھا۔ انھوں نے پیغمبر اسلام کا یہ ساتھ اُس وقت دیا تھا، جب کہ آپ کی ذات کے ساتھ ابھی تاریخی عظمت جمع نہیں ہوئی تھی۔ انھوں نے پیغمبر اسلام کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پہچانا، انھوں نے بظاہر ایک معمولی شخصیت کو غیر معمولی شخصیت کے روپ میں دریافت کیا، انھوں نے تاریخی اعتراف (historical recognition) کے درجے تک پہنچنے سے پہلے آپ کی حیثیت کا اعتراف کیا۔ انھوں نے دورِ عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس وقت پہچانا، جب کہ اُس کی ذات ہر قسم کی ظاہری عظمت سے پوری طرح خالی تھی۔ انھوں نے محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب کو خدا کے نمائندہ کی حیثیت سے دریافت کرکے اُس کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرینڈر کر دیا، اصحابِ رسول نے ساعتِ عُسرت (التوبة، 117)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues