Al-Risala · August 2018 · page 25

اصحابِ رسول کی دوت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۲۵

ڑا مُسْتَحکم مملکتِ پاکستان کے معمار کابلستان کے پیغَمْبَرِ اِسلاَم کا ساتھ دِیا۔ یہ ساتھ دینا اُسی وقت مُمکِن تھا، جب کہ اَصحابِ رسول مذکورہ امتیازِی میں ا صفت کے حامل ہوں۔

اصحابِ رسول کی دوت

کی صفات کو قرآن میں " أشداء علی الکفار " کے الفاظ میں أشدّاء علی الكفار اصحابِ رسول کی دوسری صفت کو قرآن میں "أَشِدَّاء عَلى الْكُفَّار " کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اہل کفر پر شدید ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہل باطل کے مقابلے میں غیر اثر پذیر (unyieding) کردار کے حامل تھے، مروّجہ افکار، ان کو متزلزل نہیں کر سکتے تھے، وقت کی غالب تہذیب اُن کو مرعوب کرنے والی نہ تھی، مفادات کا نظام ان کو اپنی راہ سے ہٹا نہیں سکتا تھا۔ اصحابِ رسول کی دریافت اتنی زیادہ گہری تھی کہ وہی اُن کی پوری شخصیت کا واحد غالب عنصر بن گئی۔

رحماء بینھم

کے تحت ایک دفعہ پھر "سول سوسائٹی" کے افراد میدان میں آگئے اصحابِ رسول کی تیسری صفت کو قرآن میں "رحماء بینہم" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی آپس میں ایک دوسرے کے لیے آخری حد تک ہمدرد اور خیر خواہ ہونا۔ اس صفت کی غیر معمولی اہمیت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اصحابِ رسول کے درمیان وہ تمام اختلافات (differences) موجود تھے جو ہر انسانی گروہ کے درمیان فطری طور پر پائے جاتے ہیں۔ اِس کے باوجود وہ بنیانِ مرصوص (الصف ، 4 : کی طرح باہم متحد رہے، انھوں نے اِس صلاحیت کا ثبوت دیا کہ وہ اختلاف کے باوجود آپس میں متحد ہو سکتے ہیں، وہ شکایتوں کے باوجود ایک دوسرے کے خیر خواہ بن سکتے ہیں، وہ منفی اسباب کے باوجود اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اصحابِ رسول کی یہی صفت تھی جس کی بنا پر وہ توحید پر مبنی وہ انقلاب لا سکے جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

تراھم ركعا سجداً

اصحابِ رسول کی چوتھی صفت کو ’’تراھم رکعاً سجداً" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ کتابوں کی دنیا ابراہیم رسما مساجد کے احکام میں کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues

Printed page