ملتِ ابراهیم
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۳۰
ملتِ ابراهیم
ایک صاحب نے لکھا ہے کہ قرآن میں ایک سے زیادہ بار اتباعِ ملتِ ابراہیم کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ملتِ ابراہیم کیا ہے؟ براہِ کرم واضح کریں (ایک قاری الرساله، لکھنؤ)۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ہم ملتِ ابراہیم یا ابراہیمی ملت کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں ــــ دین یہود، دین نصاریٰ، اور دینِ محمد۔ ان تینوں مذاہب کے مورثِ اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔ اسی لیے حضرت ابراہیم کو قرآن میں امام الناس (البقرَة، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120) کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم تقریباً چار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ حضرت ابراہیم ایک صاحبِ کتاب پیغمبر تھے (الاعلیٰ، 87:19)۔ اگر چہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیا میں سے حضرت موسیٰ، اور حضرت مسیح صاحبِ کتاب پیغمبر تھے۔ تاہم ان کی کتابیں بھی آج پوری طرح محفوظ حالت میں نہیں ہیں۔
حضرت محمد نے اسی بارے میں یہ کہا کہ میں اسی دین کو لے کر آیا ہوں جس دین کو لے کر حضرت ابراہیم آئے تھے (النحل، 16:123)۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کا مشن دینِ ابراہیم کی تجدید کا مشن تھا۔ رسول اللہ کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا دین ہر اعتبار سے محفوظ دین تھا، اور اب حق کے متلاشی کو اسی دینِ محمدی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ کیوں کہ اب اللہ کا دین اپنی محفوظ حالت میں صرف دینِ محمدی میں پایا جاتا ہے۔ مکہ کے قریش اگر چہ عملاً شرک پر قائم تھے، لیکن وہ اپنے مذہب کو حضرت ابراہیم کے ساتھ وابستہ کرتے تھے۔ اس لیے وسیع تر پہلو سے قریش بھی اس خطاب میں شامل ہیں۔ یہود ونصاریٰ اس خطاب میں براہِ راست طور پر شامل تھے، اور قریش بالواسطہ طور پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues