Al-Risala · August 2018 · page 29

ایمان اور عمل صالح

الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۲۹

نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بشارت براہ راست طور پر اصحاب رسول کے لیے ہے اور بالواسطہ طور پر قیامت تک کے اُن تمام لوگوں کے لیے ہے جو اصحاب رسول کے رول کو دریافت کریں اور بعد کے زمانوں میں اس کا تسلسل جاری رکھیں تسلسل کو جاری رکھنے کا یہ عمل کوئی سادہ عمل نہیں۔ اس کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جن کے اندر تخلیقی فکر ہو اور جن کے اندر مجددانہ صلاحیت ہو۔ بعد کی نسلوں میں جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں گے، وہ سب مذکورہ قرآنی بشارت میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ ☆☆☆☆☆ اس ابراہیمی منصوبے پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حضرت ابراہیم کی قربانی، قربانی برائے دعوت تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عراق کے تجربے کی روشنی میں عرب میں ایک نیا دعوتی منصوبہ بنایا جائے، جو نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ موثر ثابت ہو۔ جانور کے ذبیحہ کی صورت میں اس منصوبہ میں شامل افراد کو پیشگی یہ بتایا گیا کہ تم کو اس منصوبہ کی کامیاب تکمیل کے لیے ایک ایسے پرمشقت کورس سے گزرنا ہوگا، جو گویا ذبیحہ (slaughter) جیسے تجربہ کے برابر ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان دوبارہ حضرت ابراہیم کی اس تاریخ کو دہرائیں۔ موجودہ زمانہ میں وہ دوبارہ یہ کریں کہ شکایت کے ذہن کو مکمل طور پر ختم کردیں۔ وہ ردعمل کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر اپنے کو بچائیں۔ وہ تشدد کی سرگرمیوں کو چھوڑ کر پرامن دعوت کا منصوبہ بنائیں۔ وہ دوبارہ جذبات کی قربانی کا ثبوت دیں۔ موجودہ زمانے میں بھی بظاہر تمثیلی قربانی کا سلسلہ جاری رہے گا، لیکن اسپرٹ کے اعتبار سے ان کو اپنے آپ کو مکمل طور پر بدلنا ہوگا۔ ابراہیم اور اسماعیل کے زمانے میں اگر ڈیزرٹ تھراپی کا طریقہ اختیار کیا گیا تھا تو اب مسلمانوں کو صبر تھراپی (sabr therapy) کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues

Printed page