حج کی اسپرٹ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۳۶
حج کی اسپرٹ
قرآن میں حج کے تعلق سے دو آیتیں آئی ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے۔ تاکہ وہ اپنے فائدہ کی جگہوں پر پہنچیں اور چند معلوم دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں (28-22:27)۔ یہاں منافع سے مراد ایمانی منافع ہیں۔ حج کے موقع پر ان ایمانی منافع کا ذریعہ وہ چیزیں ہیں، جن کو قرآن میں دوسرے مقام پر شعائر اللہ (البقرۃ، 2:158) کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی یادگاریں۔ اللہ کی یادگاروں سے مراد توحید کے مشن کی وہ تاریخی یادگاریں ہیں، جو پیغمبروں کے ذریعے اس علاقے میں قائم ہوئیں۔ حج کے موقع پر جو مراسم ادا کیے جاتے ہیں، وہ سب اسی پیغمبرانہ تاریخ کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔
احرام کا مطلب یہ ہے کہ مادی کلچر سے نکل کر آدمی ربانی کلچر میں داخل ہو گیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر کے حاجی اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ وہ اُمِ اسماعیل کی طرح اپنے آپ کو دین توحید کے لیے وقف کرے گا۔ جمرات پر کنکریاں مار کر وہ علامتی زبان میں یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں اسی طرح شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگاؤں گا، جس طرح پیغمبر ابراہیم نے شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگایا۔ قربانی کر کے حاجی یہ عہد کرتا ہے کہ وہ مادہ پرستی کو چھوڑ کر خدا پرستی کی زندگی اختیار کرے گا۔ عرفات کے میدان میں اکٹھا ہو کر تمام حاجی اس وقت کو یاد کرتے ہیں، جب میدان محشر میں اپنا حساب دینے کے لیے حاضر کیے جائیں گے۔ آخر میں حاجی پیغمبر اسلام کی اس پکار کو لے کر واپس ہوتا ہے، جو پیغمبرِ اسلام نے 1400 سال پہلے کہا تھا: اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً، فَأُدْوَاعِيّٰی (معجم الکبیر للطبرانی، 20/8)۔ یعنی اللہ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، اس لیے تم میری طرف سے تمام انسانوں کو میرا پیغام پہنچادو۔ اس میں سبق کا پہلو یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم لوگ خدا کے دین کی عالمی پیغام رسانی میں سر گرم ہو جاؤ۔ تمھاری دوڑ دھوپ، تمھارا ٹھہرنا اور چلنا، تمھارا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues