Al-Risala · August 2018 · page 37

حج کی اسپرٹ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۳۷

چپ ہونا اور بولنا، سب کچھ اسی دعوتی مشن کے لیے وقف ہو جائے۔

حج کو اافضل عبادت کہا گیا ہے۔ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے۔ حج کی سالانہ عبادت کے دوران جو عمل کیے جاتے ہیں، ان پر غور کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حج اپنے کثیر فوائد کی بنا پر اس قابل ہے کہ اس کو فضل عبادت کہا جائے ۔ حج میں ساری دنیا کے مسلمان مختلف علاقوں سے چل کر کعبہ کی سرزمین میں پہنچتے ہیں۔ یہ سفر پتھروں کا سفر نہیں ہوتا، بلکہ زندہ انسانوں کا سفر ہوتا ہے، ایسے انسان جو دیکھنے اور سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح جب یہ لوگ حج کے موسم میں دنیا کے مختلف علاقوں سے نکل کر حجاز کی طرف روانہ ہوتے ہیں، تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عالمی ہل چل وجود میں آجاتی ہے۔ اس اعتبار سے حج کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر انسانوں کا ایک عبادتی موبلائزیشن ہے۔ تقریباً نصف کروڑ کی تعداد میں جب اہل ایمان اپنے گھروں سے نکل کر حج کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں، تو اس دوران بار بار ان کا انٹرایکشن دوسروں سے ہوتا ہے۔ اس انٹرایکشن کے دوران اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان اسلام کے تعارف کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ حاجی کو اس سفر کے دوران نئی نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس سے اُس کے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس دوران اُس کی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ اس طرح حج کا سفر اس کے لیے دینی سیاحت کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس سفر کے دوران بار بار دوسرے حاجیوں سے اس کے اختلافات ہوتے ہیں۔ مگر قرآن کی آیت (2:197) وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجّ (حج میں لڑائی جھگڑا نہیں ہے) کے تحت وہ ان اختلافات پر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس طرح حج اس کے لیے اختلاف کے باوجود اتحاد کی تربیت بن جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حج ایک جامع عبادت ہے۔ حج کا عمل ایک ایسی تربیت ہے، جس میں وہ تمام پہلو شامل ہو جاتے ہیں، جو اسلام میں ہر فرد سے مطلوب ہیں۔ تاہم حج کے فائدے صرف اس انسان کو ملتے ہیں، جو زندہ شعور کے ساتھ حج کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues

Printed page