حقیقی اہمیت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۳۸
حقیقی اہمیت
پیغمبر اسلام کے طریقہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ آپ کی نظر ہمیشہ حقائق پر ہوتی تھی، نہ کہ ظواہر پر۔ ظواہر میں اگر بے خبری کی بنا پر کوئی فرق ہو جائے تو اس کو آپ ناقابلِ لحاظ سمجھتے تھے۔ البتہ حقیقی اہمیت والی باتو ں کے بارے میں آپ کا رویہ ہمیشہ بہت سخت ہوتا تھا۔
پیغمبر اسلام کے آخری حج کا ایک واقعہ البخاری، مسلم، ابو داؤد میں تھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ آیا ہے۔ یہ آپ کی زندگی کا آخری سال تھا۔ آپ حج کا فریضہ ادا کرنے کے بعدمنیٰ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ آپ کے پاس آتے اور حج کے مسائل دریافت کرتے۔ کوئی کہتا کہ مجھے مسئلہ معلوم نہ تھا چنانچہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے بال منڈوا لیا۔ کوئی کہتا کہ میں نے رمی سے پہلے نحر (قربانی) کرلی، وغیرہ۔ آپ ہر ایک سے کہتے کہ کرلو، کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح بار بار لوگ آتے رہے اور تقدیم اور تاخیر کی بابت سوال کرتے رہے۔ آپ ہر ایک سے یہی کہتے کہ کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، (لا حَرَجَ لا حَرَج) مسند احمد، حدیث نمبر 1857۔ ابوداؤد کی روایت (نمبر 2015) میں مزید ان الفاظ کا اضافہ ہے: کر لو کوئی حرج نہیں۔ حرج تو اس شخص کے لیے ہے جو ایک مسلمان کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ یہی وہ شخص ہے جس نے حرج کیا اور ہلاک ہوا۔
دین میں اصل اہمیت معانی کی ہے، نہ کہ ظواہر کی۔ ایک شخص ظاہری چیزوں کا زبردست اہتمام کرے مگر معنوی پہلو کے معاملے میں وہ غافل ہو تو ایسا شخص اسلام کی نظر میں بے قیمت ہو جائے گا۔ اللہ ہمیشہ آدمی کی نیت کو دیکھتا ہے۔ نیت اگر اچھی ہے تو ظاہری چیزوں میں کمی یا فرق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آدمی کی نیت اچھی نہ ہو تو اللہ کی نظر میں اُس کی کوئی قیمت نہیں، خواہ اُس نے ظواہر کے معاملے میں کتنا ہی زیادہ اہتمام کر رکھا ہو۔ ظاہری خوش نمائی سے انسان فریب میں آسکتا ہے مگر ظاہری خوش نمائی کی خدا کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues