حج کی معنویت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۴۳
اصل یہ ہے کہ ملت کی تعمیر نو کا کام مکمل معنوں میں ایک مثبت کام ہے۔ جب آپ دیکھیں کہ صورت موجودہ یہ ہے کہ ملت کے معاملات پر عملاً کسی گروہ کا قبضہ قائم ہے تو ایسی حالت میں تعمیر نو کا منصوبہ کامیاب طور پر صرف اس وقت کیا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو غیر نزاعی منصوبہ کی بنیاد پر انجام دیا جائے۔ اگر نئے قائدین یہ چاہیں کہ پہلے قابض گروہ سے لڑ کر اس کو ہٹائیں، وہ پہلے اسٹیٹس کو کو بدلیں، اور اس کے بعد نئی تعمیر کا آغاز کریں تو ایسا منصوبہ ہمیشہ ٹکراؤ سے شروع ہوگا۔ ایسے منصوبہ کا آغاز تخریب سے شروع ہوگا، نہ کہ تعمیر سے ۔ چنانچہ ایسا منصوبہ اپنے آغاز ہی میں نزاعی (controversial) بن جائے گا۔ لوگوں کی طاقت غیر ضروری قسم کے ٹکراؤ پر چلنے لگے گی۔ اس کے برعکس، اگر اسٹیٹس کو کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کام شروع کر دیا جائے تو نزاع کی نوبت نہیں آئے گی، بلکہ تعمیر کا کام اول دن سے تعمیر کے اصول پر جاری ہو جائے گا۔ اب ایک لمحہ بھی تخریب میں ضائع نہیں ہوگا۔
☆☆☆☆☆
مکہ عرب کا مرکزی شہر تھا۔ قریش نے مکہ میں دار الندوہ قائم کر رکھا تھا۔ دار الندوہ گویا قبائلی پارلیمانٹ تھی۔ یہاں تمام اہم امور کے فیصلے کیے جاتے تھے۔ پیغمبر اسلام کے دادا عبد المطلب دار الندوہ کے ممتاز ممبروں میں سے ایک تھے۔ عام رواج کے مطابق، ایک حوصلہ مند لیڈر کے لیے پہلا ٹارگیٹ یہ تھا کہ وہ دار الندوہ کا رکن بننے کی کوشش کرے۔ جو گویا اُس وقت کے عرب میں سیاسی طاقت کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے دار الندوہ میں داخلے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا کہ اپنے دادا عبد المطلب کی خالی سیٹ اُنہیں دی جائے۔ دار الندوہ کے معاملے میں پیغمبر اسلام نے وہ پُرامن طریقہ اختیار کیا جس کو اسٹیٹس کو ازم کہا جاتا ہے۔ یعنی صورت موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا، بلکہ جو صورت موجودہ ہے اس کو علی حالہ قبول کر لینا۔ مگر پیغمبر اسلام کا اسٹیٹس کو ازم سادہ طور پر صرف اسٹیٹس کو ازم نہ تھا بلکہ وہ مثبت اسٹیٹس کو ازم (positive status quoism) تھا۔ یعنی وقت کے نظام سے ٹکراؤ کیے بغیر موجود مواقع کو دریافت کرکے اُسے استعمال کریں۔ اس طریق کار کو فارمولا کی زبان میں اس طرح کہا جاسکتا ہے: Ignore the problems, avail the opportunities.
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues