Al-Risala · August 2018 · page 44

حج بیت اللہ کے بعد

الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۴۴

حج بیت اللہ کے بعد

قرآن کی سورہ البقرۃ میں حج کا حکم آیا ہے، اس سلسلہ کلام کی ایک آیت یہ ہے: فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (2:200)۔ پھر جب تم اپنے حج کے مناسک پورے کر لو تو اللہ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کلماتِ ذکر کا بکثرت ورد کیا جائے۔ بلکہ اس سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو لے کر دنیا میں پھیل جاؤ اور اللہ کے پیغام کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچادو۔ اور ہر سال حج کے بعد یہی دعوتی کام کرتے رہو۔ حج کے بعد کے عمل سے مراد دعوت یعنی تمام انسانوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا ہے۔ اس تفسیر کا ماخذ خود سنتِ رسول ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ حجۃ الوداع کا فریضہ ادا کیا۔ پھر حج سے واپسی کے بعد آپ مدینہ آئے وہاں آپ نے ایک مفصل خطاب میں اپنے اصحاب کو یہ پیغام دیا: إن الله بعثني رحمة وكافة وکافة(للناس)، فأدوا عنی يرحمكم الله، ولا تختلفوا علي كما اختلف الحواريون على عیسی بن مریم (سیرت ابن ہشام : 2/607)۔ بیشک اللہ نے مجھے بھیجا ہے رحمت بنا کر اور تمام انسانوں کے لیے، تو تم میری طرف سے لوگوں کو پہنچادو، اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے، اور تم میرے ساتھ اختلاف نہ کرو جیسا عیسیٰ بن مریم کے حواریوں نے کیا۔

امت مسلمہ کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ حج کا مقصد یہ ہے کہ امت کے افراد ہر سال مکہ کے تاریخی مقام پر مجتمع ہوں، یہاں وہ مختلف اعمال کے علامتی اعادہ کے ذریعے پیغمبر کی دعوتی سنت کو یاد کریں۔ اور پھر دعوت الی اللہ کی اسپرٹ کو لے کر دنیا میں پھیل جائیں، جیسا کہ اصحابِ رسول اس دعوتی مقصد کے لیے دنیا میں پھیلے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues

Printed page