احسن العمل کون
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۶
احسن العمل کون
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: اَلَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً (67:2)۔ اس آیت کے مطابق، تخلیق انسانی کا مقصد پوری تاریخ سے ایسے افراد کا انتخاب ہے، جو عمل کے اعتبار سے احسن ہونے کا ثبوت دیں۔ یہاں عمل کا لفظ اپنے جامع معنی میں ہے، یعنی عمل کی ہر قسم کے اعتبار سے احسن۔
انسان کو عمل کے کن پہلوؤں کے اعتبار سے احسن ثابت ہونا چاہیے ۔ یہ بات قرآن کی دوسری آیتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ مثلاً یہ کہ اس انتخاب افراد کا مقصد کیا ہے۔ قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی دنیا میں خدا کی ایک قربت گاہ (التحریم، 66:11) ہوگی۔ جس کے لیے پوری تاریخ سے بہترین افراد کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس قربت گاہ کو بتانے کے لیے دوسری جگہ یہ الفاظ آئے ہیں: اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوُا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيْ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ - نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ (41:30-32)۔ یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر وہ ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے اترتے ہیں اور وہ ان سے کہتے ہیں کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رنج کرو اور اس جنت کی بشارت سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ اور تمہارے لیے وہاں ہر چیز ہے جس کا تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔ بخشنے والے، مہربان کی طرف سے مہمانی کے طور پر۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ قربت گاہ جنت ہوگی، جو گویا خدائی ضیافت (hospitality) کا مقام ہوگا۔ یہاں انسان کو ہر قسم کا فل فلمنٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ یہ اعلی اقامت گاہ فرشتوں کے انتظام میں بنے گی۔ قرآن کی دوسری آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues